مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 237 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 237

۲۳۷ بھی سوار ہو گئے۔اندر جانے کا دروازہ بھی بند کیا گیا۔انجن نے روانگی کی سیٹی دی۔اس وقت بھی مجھ کو یقین تھا کہ اس گاڑی پر جاؤں گا۔جب بالکل گاڑی چلنے ہی کو تھی تو ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ نور دین نور دین پکارتا ہوا دور تک چلا گیا۔اور گاڑی میں کوئی ایسا واقعہ ہوا کہ وہ چل کر پھر رک گئی۔وہ شخص پھر واپس آیا اور مجھے دیکھ لیا۔دیکھتے ہی دوڑتا ہوا اسٹیشن کے کمرہ میں گیا وہاں سے تین ٹکٹ لایا۔ایک اپنا اور دو ہمارے۔ساتھ ہی ایک سپاہی بھی لایا۔دروازہ کھلوایا اور ہم تینوں سوار ہوئے۔ہمارے سوار ہوتے ہی ٹرین چل دی۔اس نے کہا کہ مجھ کو آپ سے ایک نسخہ لکھوانا ہے۔میں نے نسخہ لکھ دیا اور پھر ٹکٹوں کو دیکھنے لگا کہ یہ کہاں تک کے ہیں اور کیا کرایہ دیا گیا ہے۔وہ خود ہی فور ابولا کہ میں ان ٹکٹوں کے دام ہرگز نہ لوں گا۔میں بھی خاموش ہو گیا۔ٹکٹ وہیں تک کے تھے جہاں ہم کو جانا تھا۔یعنی وزیر آباد - وہ تو نسخہ لکھوا کر شاہدرہ اتر گیا۔ہم وزیر آباد پہنچے میں نے لڑکے سے کہا کہ بیگ لے کر تم شہر میں سے ہوتے ہوئے سیدھے شہر کے دوسری طرف پہنچو۔پیچھے پیچھے میں بھی آتا ہوں۔وزیر آباد سے جموں تک ریل نہ تھی۔راستہ میں ایک شخص ملا۔اس نے کہا کہ میری ماں بیمار ہے۔آپ اس کو دیکھ لیں۔میں نے کہا کہ یہ کوئی علاج کا موقع نہیں۔مجھ کو جانے کی جلدی ہے۔اس نے کہا کہ میرا بھائی جو میرے ساتھ ہے یہ آگے اڈے پر جاتا ہے اور یکہ کرایہ کرتا ہے۔اتنے میں آپ میری ماں کو دیکھ لیں۔آپ کو اڈے پر پہنچ کریکہ تیار ملے گا۔چنانچہ میں نے اس کی ماں کو دیکھا اور نسخہ لکھا۔جب میں وہاں سے چلا تو اس شخص نے چلتے چلتے میری جیب میں کچھ روپے ڈال دئے جن کو میں نے اڈے پر پہنچنے سے پہلے ہی پہلے جیب میں ہاتھ ڈال کر گن لیا معلوم ہوا کہ دس روپیہ ہیں۔اڈے پر پہنچے تو اس کا بھائی اور یکہ والا آپس میں جھگڑ رہے تھے۔یکہ والا کہتا تھا کہ دس روپیہ لوں گا اور وہ کہتا تھا کہ کم۔میں نے کہا جھگڑا کرنے کی ضرورت نہیں۔دس روپیہ کرایہ ٹھیک ہے۔