مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 236 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 236

اس نمبردار نے کہا کہ آپ ذرا ٹھہر جائیں۔غرض تھوڑی دیر میں وہاں کی مسجد کاملا آیا اور اس نے ایک روپیہ دیا۔چونکہ وہ غریب حالت میں تھا۔میں نے اس سے روپیہ لینا پسند نہ کیا۔اس عرصہ میں گاؤں کے اور بھی بہت سے لوگ جمع ہو گئے تھے۔جب میں نے روپیہ واپس کرنا چاہا تو سب نے یک زبان ہو کر کہا یہ روپیہ تو ضرور لے لیں۔آپ ہر گز واپس نہ کریں۔میں نے سبب پوچھا تو کہا کہ یہ شخص بہت دنوں سے بیمار تھا اور اس نے آپ سے بذریعہ ڈاک جموں سے دوائی منگوائی تھی۔یہ اس کے استعمال سے اچھا ہو گیا۔ہم سب کہتے تھے کہ تو نے دو امفت منگوائی اور کوئی شکریہ بھی ادا نہیں کیا۔اس نے کہا کہ اگر نور دین یہاں ہمارے گاؤں میں آئے تو یہ دے دوں گا۔یہ کبھی روپیہ دینے والا نہیں۔آج اتفاق سے ہی یہ قابو چڑھا ہے۔اب آپ اس سے روپیہ لے ہی لیں۔عجیب بات ہے کہ میں اس سے پیشتر کبھی اس گاؤں میں نہیں گیا تھا (حالانکہ ہمارے شہر سے صرف ساڑھے چار میل کے فاصلہ پر ہو گا) اور نہ اس کے بعد کبھی وہاں جانے کا اتفاق ہوا۔اب میرے پاس ساڑھے تین روپیہ ہو گئے۔غرض ہم ریل کے کنارے پر پہنچے۔اسٹیشن پر پہنچ کر میرے دل میں خیال آیا کہ اس لڑکے کو لاہور دکھادیں۔میں نے اسٹیشن پر دیکھا کہ لاہور تک کا دو آدمیوں کا تھرڈ کلاس کا کرایہ تین روپیہ ہے۔ہم نے دو ٹکٹ تھرڈ کلاس کے لئے اور لاہور پہنچ گئے۔آٹھ آنے ہمارے پاس باقی تھے۔اسٹیشن پر اترے۔ایک گاڑی بان نے کہا کہ سوار ہو جاؤ۔ہم نے کہا۔انار کلی میں شیخ رحیم بخش کی کوٹھی پر اترنا ہے کیا لو گے ؟ اس نے کہا کہ ایک روپیہ سے کم نہ لوں گا۔ہم نے کہا کہ ہمارے پاس تو ایک اٹھنی ہے۔چاہو تو لے لو۔اس نے ہنس کر اٹھنی لے لی اور شیخ صاحب کے مکان پر ہم کو پہنچا دیا۔کچھ دن لاہور رہنے کے بعد جب چلنے لگے تو شیخ صاحب نے اپنی گاڑی میرے لئے منگوادی اور آہستہ سے میرے کان میں کہا کہ ہمارے نوکر کو آپ انعام نہ دیں۔اسٹیشن پر مجھے یقین تھا کہ میں ابھی کی گاڑی میں جاؤں گا۔پیسہ تو پاس ایک بھی نہ تھا۔لیکن یقین ایسا کامل تھا کہ اس میں ذرا بھی تزلزل نہ تھا۔میرے کھڑے کھڑے ٹکٹ تقسیم ہونے شروع ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے بند ہو گئے۔ٹرین بھی آئی۔مسافر