مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 238 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 238

۲۳۸ لکھنو - رامپور وغیرہ (۲ / جون ۱۹۰۹ء) لکھنو میں میرے ایک استاد تھے۔انہوں نے مجھ سے دریافت کیا کہ بھلا یہ تو بتاؤ عبد الکریم یا کریم بخش تمہارے نزدیک کیسے نام ہیں۔میں نے کہا کہ ایسے سوال کا جواب جو آپ نے کیا ہو۔میں کیا دے سکتا ہوں۔کہا کہ یہاں لکھنو میں ایک ننگ دھڑنگ فقیر ہے۔اس کا نام کریم جی ہے۔جو عورتیں یہ سمجھتی ہیں کہ یہ بیٹا ہم کو کریم جی نے دیا ہے۔اس کا نام عبد الکریم یا کریم بخش رکھتی ہیں۔(۳) اگست ۱۹۰۸ء) ایک مرتبہ لکھنو میں ایک مجتہد کے پاس ایک شیعہ آیا۔اس نے ان سے پوچھا کہ کربلا اور مکہ کے حج میں کیا فرق ہے۔مجتہد نے کہا کہ مکہ کے حج میں تو بہت سے شرائط ہیں اور کربلا کے حج میں کوئی شرط نہیں۔وہ سائل پاؤں چوم کر خوش ہو کر چلا گیا۔جب وہ چلا گیا تو مجھ سے کہنے لگے کہ دیکھو میں تو کربلا کے حج کا قائل نہیں ہوں۔اسی وجہ سے تو میں نے کہا کہ کربلا کے حج میں کوئی شرط نہیں کیونکہ قرآن شریف میں اس کا ذکر نہیں ہے۔(۲۷ دسمبر ۱۹۰۹ء) میں نے لکھنو میں سنا کہ حجام کو خلیفہ کہتے ہیں وجہ اس کی یہ کہ خلفائے راشدین سے ان کو عداوت ہے۔(یکم جون ۱۹۰۹ء) ہمارے ایک طبیب استاد تھے۔ان کے یہاں ایک پہلوان آیا۔اس کو ہیضہ ہوا تھا۔