مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 154
۱۵۴ کنوئیں کے نہ ہونے سے تم کو پانی دور سے لانا پڑتا ہے۔نیز تمہاری جوان عمر بہو بیٹیاں پانی لینے کے لئے بازار میں سے ہو کر جاتی ہیں۔یہ خرابی اور تکلیف بھی جاتی رہے گی۔اس محلہ کے نمبردار نے نہ تو میری وجاہت کا خیال کیا اور نہ خود دل میں شرمایا۔بے ساختہ مجھ کو جواب دیا کہ مولوی صاحب ! انسان کے جسم میں ایک مقعد ہوتی ہے اس میں پاخانہ بھرا رہتا ہے۔اسی طرح ہمارا محلہ بھی بھیرہ شہر کی مقعد ہے لہذا ہر قسم کی گندگیاں ہم میں ہونی چاہیں۔اور یہ جو آپ کہتے ہیں کہ ہماری بہو بیٹیاں بازار میں ہو کر جاتی ہیں۔جب ہماری مائیں اور دادیاں بھی بازار میں ہو کر ہی پانی لاتی رہی ہیں تو بہو بیٹیاں ان سے زیادہ معزز نہیں۔میں وہاں سے چلا آیا۔مگر مجھ کو یقین تھا کہ خدا تعالیٰ میری اس محنت کو ضائع نہ کرے گا۔بعد میں مجھ کو معلوم ہوا کہ ملا اس مسجد کی امامت کا بھو کا تھا اور اسی لئے کنواں بنوا تا تھا کہ مسجد کی امامت مل جائے۔چند ہی روز کے بعد میونسپلٹی نے حکم دیا کہ شہر کی گلیاں سب پختہ بنوائی جائیں۔اس محلہ میں سڑک اس طرح نکالی گئی کہ انکے دروازوں کے سامنے ذرا بھی صحن نہ رہا۔وہ پنکھے بنانے والوں کا محلہ تھا۔ان لوگوں کو بڑی تکلیف ہوئی۔اور سڑک سے دوسری طرف کی تمام زمین پر اہل ہنود نے قبضہ کر لیا۔اس نمبردار سے سب نے کہا کہ اب تو اس کی ایک ہی سبیل ہو سکتی ہے کہ اگر نور الدین تمہاری مدد کرے تو وہ تم کو زمین دلا سکتا ہے۔وہ نمبردار میرے پاس آیا کہ حضرت! آئیے اس کنوئیں کی اینٹ آپ اپنے ہاتھ سے رکھیں۔مجھ کو بڑی حیرت ہوئی۔میں نے اس سے کہا کہ صاف بات بتاؤ۔تم تو کنواں بنوانے کے اس قدر مخالف تھے یا اب خود مجھ سے درخواست کرتے ہو ؟ کہنے لگا کہ حضور آپ کا فرمان بھلا کہیں بغیر پورا کئے تھوڑا ہی ہم رہ سکتے ہیں۔خیر اس کو تو اس وقت میں نے رخصت کر دیا اور اس ملا کو بلوایا۔اس نے بتایا کہ اصل بات تو یہ ہے۔اور اب جب تک آپ کا قدم در میان نہ ہو نہ کنواں بن سکتا ہے نہ زمین ان کو ہندو دے سکتے ہیں۔ہندو میرا بڑا لحاظ کرتے تھے۔میں نے ان سے کہا کہ نصف زمین ان کو دے دو کہ یہ کنواں وغیرہ بنوالیں۔انہوں نے میرے کھنے سے مان لیا۔کنواں بن گیا اور ملا صاحب بھی اس مسجد کے امام بن گئے۔چونکہ مُلا صاحب