مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 155 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 155

۱۵۵ کے ارادہ میں دنیا کی ملونی تھی اس لئے اس کام میں اس قدر دیر ہوئی۔طب کے پیشہ میں دو بار مجھے کو اللہ تعالیٰ نے مار مار کر توحید سکھلائی اور دونوں واقعوں سے اعتماد علی المخلوق اللہ تعالیٰ نے میرے دل سے بالکل نکال دیا۔پہلا واقعہ یہ ہے کہ ایک کو محرقہ آپ تھی اور وہ ایک بڑا امیر کبیر آدمی تھا۔میں نے اس کے علاج میں بہت ہی زور لگایا اور مجھ کو یقین تھا کہ ساتویں دن اس کو بحران ہو جائے گا۔ساتویں روز کی رات میں شام ہی سے اس کو خوب اضطراب شروع ہوا اور میں نے اس کو فال نیک سمجھا۔اس کے گھر والے تو اس علم سے ناواقف تھے۔انہوں نے رات ہی کو ایک اور طبیب (اس طبیب کا نام کرم علی تھا یہ پنڈ دادنخان کا ایک خاندانی طبیب تھا) کو بلایا۔وہ آخر شب وہاں پہنچا۔بڑا تجربہ کار آدمی تھا۔اس کو یقین ہو گیا کہ مریض کے عوارض تو رو به انحطاط ہیں اب بحران شروع ہونے والا ہے۔آتے ہی اپنے پاس سے ایک پڑیہ بہت جلدی نکال کر وہاں بید مشک رکھا ہوا تھا اس کے ساتھ کھلائی۔میری طرف دیکھ کر ہنسا اور ان سے کہا کہ یہ کیاتپ ہے ابھی ہماری پڑیہ سے ٹوٹ جائے گا۔کچھ وقفہ کے بعد اس کو بحران شروع ہوا۔گھر والوں نے سمجھا کہ اس حکیم کے پاس اکسیر کی پڑیہ تھی والا نور الدین کو آج چھ روز ہوئے۔کس قدر اس نے زور لگایا اور ذرا بھی فائدہ نہ ہوا۔اور آج کی رات تو بڑی تکلیف کی تھی۔اس حکیم نے بھی بحران کے بعد بہت بڑا انعام مانگا۔مجھ کو یہ انعام ملا کہ مخلوق پر بھروسہ نہ کرنا۔الحمد لله رب العلمين۔دوسرا واقعہ یہ ہے۔کہ میرے ایک دوست تھے۔جن کی عمر اسی برس کے قریب تھی۔میرے ساتھ وہ بڑی ہی محبت کا برتاؤ کیا کرتے تھے۔میں نے ان کو بہت ترغیب دی کہ آپ شادی کرلیں مگر وہ مضائقہ کرتے تھے۔میری وجاہت بھی ان کے دل پر بڑی تھی۔آخر مجھے سے کہا کہ مجھے شہوانی تحریک ہوتی ہی نہیں۔میرے خیال میں تھا کہ ایک باکرہ نوجوان کے ساتھ شادی کی تو تحریک ہو جائے گی۔لیکن ظاہر میں میں نے سم الفار - پارہ - افیون کا مرکب معجون فلاسفہ کے ساتھ دیا۔انہوں نے شادی بھی کرلی۔اللہ تعالیٰ کے عجائبات قدرت میں