مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 82 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 82

사 مناسب مدارات کی۔انہوں نے بڑا شکریہ ادا کیا۔اور کہا کہ ” آپ نے ہمارے ساتھ بڑا سلوک کیا اور میرے پوتے کو عالم بنا دیا۔میں اس کے عوض میں آپ کو کیمیا سکھاتا ہوں مجھ کو چونکہ اپنے والد صاحب سے بہت ہی محبت تھی اور کوئی بات بھی ان سے نہیں چھپا تا تھا۔میں نے جا کر والد صاحب سے عرض کیا کہ اس لڑکے پر واقعی ہم نے بڑا احسان کیا ہے۔اب اس کے دادا صاحب آئے ہیں۔وہ مجھ سے کہتے ہیں کہ میں کیمیا بتائے دیتا ہوں۔آپ کا اس میں کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ اس لڑکے کے دادا سے کہو کہ بہتر یہ ہے کہ آپ ہم کو دس ہزار روپیہ بنا کر دے دیں۔کیمیا کے سیکھنے کی ضرورت نہیں۔میں نے ایسے ہی ان سے کہ دیا۔وہ تو چلے گئے۔بعد میں ان کے پوتے نے کہا کہ۔” یہ تو ٹھنگ آدمی ہے " خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے کیمیا کی خواہش سے مجھ کو بچایا۔میرے قلب کے کسی گوشہ میں بھی کبھی کیمیا کی کوئی خواہش نہیں ہوئی۔شاید یہ بات بھی کسی کو مفید ہو کہ اس زمانہ میں رامپور میں میاں سبحان شاہ رہتے تھے۔میرا ایک بہت پیارا دوست انکے پاس گیا اور ان کی خدمت میں شریعت کے متعلق کچھ عرض کیا۔میاں سبحان شاہ نے اس کی بات کو ہنسی میں ملا دیا۔میرا دوست کسی قدر شوخ تھا۔کھڑا ہو گیا۔میاں صاحب نے کہا۔آپ جاتے تو ہیں مگر آپ تو پھر بھی ہمارے یہاں آہی جائیں گے۔اس نے غلیظ قسم کھائی کہ میں آپ کے یہاں ہر گز نہ آؤں گا۔لیکن جب وہ مکان پر آیا تو اس کو معلوم ہوا کہ اس کے گلے میں کوئی رسہ ڈالا گیا ہے اور زور سے کوئی کھینچتا ہے۔انچہ وہ مجبوراً اٹھ کر کھا چلا جاتا تھا۔راستہ میں قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ اعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ پڑھتا تھا مگر سبحان شاہ کے مکان کی طرف چلا جاتا تھا۔پھر اس نے بڑے الحاج سے دعا مانگی یہاں تک کہ وہ رسہ ٹوٹ گیا اور وہ راستہ ہی سے اپنے مکان کو واپس چلا آیا۔بہت دنوں کے بعد اپنی مرضی سے بلا کسی جبر کے وہ سبحان شاہ کے مکان پر گیا۔انہوں نے دیکھتے ہی کہا چلے جاؤ اور یہ چلا آیا۔مگر یہ کہتا ہوا آیا کہ آپ کا رسہ تو ہم نے تو رہی دیا۔یہ وہاں کے عجائبات میں سے ایک بات ہے۔