مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 81
Al وقت اٹھ کر چلے جایا کریں گے۔آپ میری سفارش سے اس بات کو منظور کرلیں۔میری اس جرأت پر اس شریف لڑکے کو بڑا ہی تعجب ہوا اور پھر کہا کہ بہت اچھا آجایا کریں۔اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص اللہ فی اللہ کام کرتا ہے۔خدا تعالیٰ اس میں ضرور برکت دیتا ہے۔تیسری بات یہ ہے کہ مجھے کتابوں کا بہت شوق تھا۔ایک بزرگ شاہ صاحب میری کتابیں لکھا کرتے تھے اور وہ شاہ صاحب کتابت میں بہت کچھ کماتے تھے مگر سب کیمیا میں لگا دیتے تھے۔ایک مرتبہ انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ دس روپیہ مجھ کو دے دیں اور میں آئندہ کتاب نہ لکھوں گا بلکہ نقد روپیہ آپ کو ادا کردوں گا۔میں نے کہا کیوں؟ کہا میں اٹھارہ برس کا تھا تب سے مجھ کو کیمیا کے نسخوں کا شوق ہے۔میں کیمیا کے معاملات میں خوب تجربہ کار ہوں۔اب مجھ کو کیمیا کا اصل نسخہ مل گیا ہے۔چاندی بناؤں گا اور آپ کے روپے ادا کردوں گا۔میں نے ان کو دس روپے دے دیئے مگر بہت دنوں تک شاہ صاحب ملے نہیں۔ایک روز میں اس مسجد میں چلا گیا جہاں وہ امامت کراتے تھے۔مگر وہ مسجد میں نظر نہ آئے۔جس حجرہ میں وہ رہتے تھے اس کو دیکھا تو دروازہ بند ہے۔اندر سے زنجیر لگی ہوئی ہے۔آواز دی مگر اندر سے جواب نہ آیا۔دروازہ کو کھٹکھٹایا دھکا دیا۔کواڑ کچھ کمزور تھے۔دروازہ کھل گیا۔شاہ صاحب چار پائی پر بیٹھے تھے۔مجھ کو دیکھ کر چونک پڑے۔مجھ سے کہنے لگے۔دیکھئے ہم نے کیمیا تو بنائی تھی۔یہ کہہ کر ایک مٹی کا برتن اٹھا لائے۔اس میں جلی ہوئی کوئی چیز تھی۔کچھ ذرات سے بھی چمکتے تھے۔کہا چاندی تو بنے ہی لگی تھی۔مگر ہم نے کچھ ستی کی۔اچھی طرح برتن کو بند نہیں کیا تھا۔خیر اب تو کتاب لکھے دیتا ہوں مگر آئندہ نہ لکھوں گا۔مجھ کو کیمیاگری سے بڑی ہی نفرت ہو گئی۔اس سے پہلے میں راولپنڈی سے بھیرہ کو آتا تھا۔ایک مسجد میں میں نے نماز پڑھی وہاں دو آدمی سکندر نامہ کے کسی شعر پر الجھے ہوئے تھے۔میں نے نماز پڑھ کر ان کا فیصلہ کیا اور شعر کے کچھ معنے بتائے۔جس کو وہ دونوں مان گئے۔ان میں ایک نوجوان ہمارے گھر چلا آیا اور پڑھنا شروع کیا۔وہ ہمارے گھر رہتا تھا اور پڑھتا تھا۔عربی میں بھی اس کی اچھی استعداد ہو گئی تھی۔بہت دنوں کے بعد ایک روز اس کے دادا آئے ہم نے انکی