مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 83
۸۳ رامپور میں مشکوۃ میں نے حسن شاہ صاحب سے پڑھی۔شرح وقایہ مولوی عزیز اللہ صاحب افغان سے اور اصول شاشی اور میبذی مولوی ارشاد حسین صاحب سے متنبی مفتی سعد اللہ صاحب سے، صدری وغیرہ مولوی عبد العلی صاحب سے ملا حسن حافظ سعد اللہ رڑیان ملک پنجاب سے پڑھی۔ایک عجیب معرکۃ الآراء بات جو مجھ کو اس وقت پیش آئی یہ تھی کہ مجھ سے میرے بعض احباب نے کہا کہ تم زواہد ثلاثہ پڑھو۔میں نے ان سے پوچھا یہ کس علم کی کتابیں ہیں۔اس میرے سوال نے وہاں ایک شور برپا کر دیا۔بڑی بڑی مخالفتیں میرے اس سوال پر ہو ئیں۔مجھ کو یہ فائدہ ہوا کہ ان تینوں کتابوں کے پڑھنے میں مجھے تامل ہو گیا۔اگر چہ طوعاً و کرها میرزاہد رسالہ اور میرزاہد ملا جلال کو میں نے پڑھا مگر بڑی بدمذاقی سے۔ایک دفعہ میں گلی میں جاتا تھا اور بہت سے طالب علم میرے ساتھ تھے۔راستہ میں ایک خوش وضع اور عمدہ لباس والے آدمی سے جن کے ساتھ بہت سے طالب علم تھے ملاقات ہوئی۔انہوں نے مجھ کو دیکھ کر کہا کہ تمہارا ہی نام نورالدین ہے اور تم نے ہی زواہد ثلاثہ کے متعلق لوگوں سے کچھ گفتگو کی ہے۔میں نے کہا کہ حضرت ایسا ہوا ہے " انہوں نے میری پیٹھ تھپکی اور کہا کہ ”خوب ! میں بھی تمہارا ہم خیال ہوں۔اب اگر کوئی تم سے زواہد ثلاثہ کے متعلق گفتگو کرے اور تم ہار جاؤ تو اس کو میرے پاس لاؤ۔انہوں نے بڑی محبت سے گفتگو لی اور کہا کہ زواہد میں جو کچھ پڑھا جاتا ہے یہ کوئی علم نہیں۔بعد میں میں نے لوگوں سے انکا نام پوچھا تو معلوم ہوا کہ مولوی حکیم عبد الکریم صاحب۔انکی زبان میں کسی قدر لکنت بھی تھی۔رامپور میں چونکہ میں دو تین برس رہا۔اس لئے بڑی بڑی باتیں ہیں مگر اس وقت اللہ جلّ شانہ کے احسانوں میں سے ایک احسان کا ذکر کر دیا مجھے پسند آتا ہے۔مولوی ارشاد حسین صاحب میرے ہم قوم بزرگ تھے۔اور میں سلسلہ نقش بندیہ میں مرید بھی تھا مگر پھر بھی مولوی محمد اسماعیل صاحب شہید کی شان میں وہاں اکثر جھگڑا ہو جاتا تھا۔میں ہر چند کوشش کرتا تھا کہ وہاں یہ جھگڑے نہ ہوں کیونکہ ہمارے پڑھنے میں حرج ہو تا تھا۔