مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 49
دریس نتایم رو وم مرزا گیر کنندم بوزند ایوان پر ہر ایک کا عمل ہے۔باایں ہمہ لوگ اور آپ ہم سے کیوں خفا ہیں ؟ اس لئے کہ مرزا نے دعوئی مکالمہ الہیہ کا کیا۔مگر اس دعوے کی بنا اس پر تھی کہ اللہ تعالٰی اپنے صفات میں آلانُ كَمَا كَانَ ہے۔پس اگر وہ پہلے کسی سے بولتا اور کلام کرتا تھا تو اب وہ کیوں نہیں بولتا۔اور اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں دعا ہے کہ الہی ! انبیاء - صدیقوں۔شہداء اور صلحاء کی راہ عطا فرما۔اور ان راہوں میں ایک راہ مکالمہ کی بھی ہے۔پس اگر ہم مکالمہ کے مدعی ہیں تو کیا کفر کیا؟ بنی اسرائیل کو اس لئے عبادت عمل پر ملامت ہوئی اَلَمْ يَرَوْا أَنَّهُ لَا يُكَلِّمُهُمْ وَلَا يَهْدِيهِمْ سَبِيلاً - کہ ان کا معبود ان سے بات نہیں کرتا اور ان کو ہدایت نہیں فرماتا۔پس اس وقت کیوں مسلمان مکالمات الہیہ سے انکار کرتے ہیں۔؟ دعوی امامت و تجدید دین۔اس کی بنا مکالمات اور حدیث عَلَى رَأْسِ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِيْنَهَا اور سورہ نور کی آیت استخلاف پر تھی۔اور ہمیشہ مجدد گذرتے رہے۔پس اس صدی کو کیوں خالی چھوڑتے ہیں۔؟ دعوی مهدویت جس کا مدار وہی مکالمات تھے اور حدیث لَا مَهْدِى إِلا عِيسَى یہ صحیح حدیث اسفار حدیث میں موجود ہے۔منجملہ ان کے ابن ماجہ میں بھی ہے مگر جناب نے بہت حقارت اور بری نگاہ سے اس کا نام روایت اور مرزا صاحب کی توہین کے لئے فرمایا کہ حدیث کر کے مرزا نے اس روایت کو پیش کیا ہے۔حالانکہ یہ حدیث ہے۔اور پھر کیا مجدد مھدی نہیں ہوتا ؟ انصاف ! انصاف !! دعوئی عیسی ابن مریم ہونے کا۔اس کا مدار بھی مکالمہ اللہ تھا اور قرآن کریم کی آیت