مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 50
و مَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرَجَهَا فَنَفَخْنَا فِيْهِ مِنْ رُّوحِنَا وَ صَدَّقَتْ بِكَلِمَاتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ (سورۃ تحریم) پر تھا۔اس آیت کریمہ سے پہلے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔مومن جس سے خطا ہو جائے وہ امرأة فرعون کی مثل ہے کہ شیطان کے ماتحت ہے۔وہ تو دعا ئیں کریں۔نَجْنِي مِنْ فِرْعَوْنَ اور اس آیت میں ذکر ہے دوسری قسم کے مومن کا۔دوسرا مومن وہ ہے جو محصن ہے۔وہ مریم ہو تا ہے اور جب اس پر کلام الہی کا نفخ ہوتا ہے تو مریم سے ابن مریم ہو جاتا ہے تیسری وجہ یہ کہ چون مرا نورے پنے قوم مسیحی داده اند مصلحت را ابن مریم نام من بنهاده اند چوتھی وجہ حدیث صحیح يَنْزِلُ فِيكُمُ ابْن مَرْيَمَ۔مرزا صاحب کا دعویٰ کہ ابن مریم مرگئے اس کے ثبوت کے لئے انہوں نے اتنی رسالے - جو طبعی بت سے مر گئے وہ دنیا میں بائیں جسم عصری واپس نہیں آتے۔وَمِنْ ورانهِمْ يَرْزَع إلى يَوْمِ يُبْعَثُونَ۔آپ نے ہزاروں پیشگوئیاں کیں جو صحیح ہو ئیں۔جو بظا ہر کسی کو نظر آتا ہے کہ صحیح نہیں ، ان پر مراز صاحب نے بہت کچھ لکھا ہے۔بایں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو خاتم النبين مانا اور ان کے عشق و محبت میں ہزاروں صفحہ لکھا ہے، بے ریب لکھا ہے کہ میں ني بمعنی پیشگوئی کرنے والا ہوں۔مجھے احادیث اور کلام الہی میں نبی کہا گیا مگر نہ نبی تشریعی - اور یہی مذہب تمام صوفیاء کرام کا ہے۔فتوحات مکیه باب پر آپ غور کریں۔آپ کی سرخی اور آپ کا مضمون کم سے کم چار لاکھ مسلمان احمدیوں کو دکھ دینے والا ہے۔اگرچہ آپ کے ساتھ بھی بہت سے اخبار اور رسائل ہیں۔مولوی صاحب! آپ کا