مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 309 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 309

۳۰۹ اور ۱۴مارچ ۱۹۱۴ء کو حضرت خلیفہ المسیح ثانی نے جنازہ پڑھایا اور مقبرہ بہشتی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی قبر کے متصل آپ کو دفن کیا گیا۔اللَّهُمَّ نَورُ قَبْرَهُ إلَى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ۔اولاد بوقت وفات آپ کی ایک بیوی حضرت صغری بیگم صاحبہ اور انکی اولاد پانچ لڑکے اور ایک لڑکی زندہ موجود تھے۔اور پہلی بیوی مرحومہ فاطمہ بی بی کی اولاد میں سے ایک لڑکی بی بی حفصه مرحومه زوجه مفتی فضل الرحمن صاحب زندہ تھیں۔پانچ لڑکوں کے نام یہ ہیں۔عبدالحی مرحوم عبد السلام ، عبد الوہاب ، عبد المنان، محمد عبد اللہ اور لڑکی مکرمہ بی بی امہ الحی مرحومہ تھیں جو حضرت خلیفۃ المسیح ثانی کے نکاح میں آئیں اور جن کی اولاد اس وقت دو لڑکیاں اور ایک لڑکا زندہ موجود ہیں۔اللہ تعالیٰ انکی عمر اور صحت اور نیکی میں برکت دے۔لڑکوں میں سے محمد عبد اللہ صاحب قریباً چھ ماہ بعد اور حضرت صاحبزادہ عبدالحی صاحب قریباً ایک سال بعد فوت ہوئے۔وصیتیں جہاں تک مجھے یاد ہے۔آپ نے تین دفعہ وصیت لکھی۔سب سے پہلی وصیت آپ نے ۱۹۰۵ء میں لکھی۔جبکہ زلزلوں کے سلسلوں کے سبب آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام و آپ کے دیگر اصحاب کے ہمراہ حضرت صاحب کے باغ میں فروکش تھے۔آپ بہت بیمار ہو گئے اور متواتر کئی دن باہر تشریف نہ لا سکے۔تب آپ نے اپنی ایک وصیت لکھی جو کہ ایمان اور عقائد اور عملیات میں آپ کی عمر بھر کی تحقیقات کا خلاصہ ہے۔وہ وصیت عاجز راقم نے اخبار بدر میں چھاپی تھی۔دوسری وصیت آپ نے اس وقت لکھی جبکہ ابتدائے زمانہ خلافت میں مطابق پیشگوئی