مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 310 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 310

۳۱۰ فرمودہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آپ گھوڑے سے گر کر بیمار ہو گئے اور ایک شب آپ کو خیال ہوا کہ سوجن دل کی طرف جارہی ہے۔تب آپ نے رات کے وقت قلم دوات طلب کی اور ایک کاغذ پر صرف دو لفظ لکھے۔خلیفہ - محمود- اور اپنے شاگرد کو وہ کاغذ دیا کہ لفافہ میں بند کر کے اپنے پاس رکھو۔یہ وصیت شائع نہ ہوئی۔گو کئی لوگوں کو اس شاگرد کے ذریعہ سے اس کے مضمون سے آگاہی حاصل ہو گئی۔اس کے بعد صحت ہو جانے پر آپ نے وہ لفافہ لیکر پھاڑ دیا۔جس قلم اور دوات کے ساتھ یہ وصیت لکھی تھی۔وہ اب تک عاجز کے پاس محفوظ ہے۔تیسری وصیت آپ نے مرض الموت میں وفات سے چند یوم قبل کی جس میں یہ تاکید کی ہے کہ جو آپ کا خلیفہ ہو وہ حضرت مسیح موعود کے پرانے اور نئے مریدوں کے ساتھ نرمی کا سلوک کرے۔یہ وصیت آپ نے لکھوا کر مولوی محمد علی صاحب کو کہا کہ دو دفعہ بآواز بلند پڑھیں۔انکے پڑھنے کے بعد اسے حضرت نواب محمد علی خان صاحب کے سپرد کیا۔اور اسی کے مطابق حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ کا انتخاب ہوا۔مقبرہ بہشتی کی وصایا کے ماتحت آپ نے اپنی زرعی زمین جو بھیرہ میں تھی۔اپنی زندگی میں ہی صدرانجمن احمدیہ کو ہبہ کر دی تھی۔وہ اپنے مکانات جو قادیان اور بھیرہ میں ہیں اور کتب خانہ وقف علی الاولاد کر دیا تھا۔اللهم اغفر له وارحمه وارفع درجاته في جنت على امين ثم أمين ✰✰✰