مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 299
۲۹۹ بہت اچھا حضور ! اب قرآن پڑھا کروں گا۔جناب خان صاحب السلام علیکم و رحمتہ رحمتہ اللہ وبرکاتہ آپ آج کل حضرت خلیفہ المسیح کی سوانح عمری لکھ رہے ہیں۔میرا بڑا جی چاہتا ہے کہ کسی طرح میرا نام اس متبرک کتاب میں لکھا جائے لہذا ایک بات لکھتا ہوں کہ میں جس روز حضرت صاحب سے بیعت ہوا تھا تو آپ نے اس روز رات کو احیاء العلوم کا درس دیتے ہوئے مجھ سے فرمایا کہ اب تم حضرت صاحب سے واقفیت بڑھاؤ۔میں نے کئی روز تک کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوا۔ایک روز درس قرآن کے بعد مسجد میں میں نے حضرت صاحب سے مصافحہ کیا۔پھر دروازہ کے قریب مصافحہ کیا تو حضرت صاحب نے میری پیٹھ پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ تم کہاں سے آئے ہو۔میں نے کہا کہ نارون ضلع کانگڑہ سے۔انہوں نے میرے والد کا نام پوچھا تو میں نے کہا کہ ان کا نام وزیر خان ہے اور وہ فوت ہو چکے ہیں اور اب میرے تایا حمید خان پرورش کرتے ہیں۔اس بات کو سن کر حضرت صاحب نے میری پیٹھ تھپکی اور فرمایا کہ تم ہمارے پاس روز آیا کرو اور ہمارے ساتھ محبت کیا کرو اور ہمارے ساتھ واقفیت پیدا کرو۔حضرت صاحب کی اس بات سے مجھ کو پتہ لگ گیا کہ ان کو قیموں سے بڑی ہمدردی ہے اور مجھے ان کے یہاں جانے کا حوصلہ ہو گیا۔اور اب میں ان کے یہاں بغیر کسی ہمراہی کے چلا جاتا ہوں۔اگر اس بات کے ذریعہ سے میرا نام کسی جگہ آپ درج کر سکیں تو بڑی مہربانی ہوگی۔والسلام راقم آپ کا شاگر د محمد نذیر خان فورتھ ہائی ۵ / جولائی ۱۹۱۲ء تمت