مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 298 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 298

۲۹۸ سکتا تھا؟ ان خان صاحب کو بالکل یہ خبر ہی نہیں تھی کہ اغلام بھی کوئی بری چیز ہے ورنہ وہ اس طرح میرے سامنے ہر گز گفتگو نہ کرتے کیونکہ وہ میرا بڑا لحاظ اور ادب کرتے تھے۔ایک اور بوڑھے انگریزی تعلیم یافتہ شخص تھے۔وہ میرے ساتھ جب سیر وغیرہ میں ہوتے اور نماز کا وقت آتا تو نماز میں شریک ہو جاتے۔میں نے ایک روز پوچھا کہ آپ کا ہمیشہ وضو رہتا ہے۔فرمانے لگے کہ مولوی صاحب ! ہم شراب بھی پیتے ہیں اور رنڈیاں بھی رکھتے ہیں مگر رات کو یہ کام کرتے ہیں اور دن کو نہیں۔صبح اٹھ کر غسل کرنا اور صابون سے نہانا بھی ہمارے فیشن میں داخل ہے۔پھر دن بھر نہ شراب پیتے ہیں۔نہ زنا کرتے ہیں۔وضو ٹوٹے تو کیسے ؟ ان کے نزدیک وضو صرف زنا اور شراب ہی سے ٹوٹتا تھا۔میرے اظہار تعجب پر کہنے لگے کہ کیا مولوی صاحب اور بھی کسی چیز سے وضو ٹوٹتا ہے ؟ ان باتوں کا ذکر اس وجہ سے کیا گیا کہ آجکل مسلمان شریعت سے کس قدر نا واقف ہیں اور حالت کہاں تک پہنچ گئی ہے۔(۳) نومبر ۱۹۱۲ء) و زیر آباد کے سٹیشن پر ایک شخص نے جو وکیل تھا اور جموں میں رہتا تھا۔مجھ سے کہا کہ آپ قرآن کریم کی بڑی تعریف کرتے ہیں۔جاؤ صرف و نحو عربی کہاں پڑھیں ؟ میں نے کہا آپ نے انگریزی پڑھنے میں محنت کی ہے؟ کہا کہ نہیں۔صرف تو نہیں پڑھی جاتی۔میں نے کہا قرآن میں قال کی جگہ قول نہیں دیکھا اس لئے صرف کی ضرورت نہیں۔کہا نحو ؟ میں نے کہا قرآن میں زیر زبر سب لکھے ہوئے ہوتے ہیں۔کہا معانی - بیان- بدیع ؟ میں نے کہا ان کی ضرورت نہیں۔کہا عروض و قافیہ ؟ میں نے کہا اس کی بھی ضرورت نہیں۔کہا لغت کی ضرورت ہے؟ میں نے کہا ہر مسلمان کو دن رات میں نماز - السلام عليكم انا لله۔سبحان اللہ وغیرہ بہت سی عربی پڑھنی پڑتی ہے۔کہنے لگا۔قُولُوا قولا سدیدا کا ترجمہ کس لغت سے کریں۔میں نے کہا۔”گلاؤ گل سدی"۔یہ اس کا ترجمہ ہے۔کہنے لگا