مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 283 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 283

۲۸۳ وغیرہ۔پھر جب خوب ان باتوں کا اثر ہو جاتا تو کہتا کہ اگر کوئی قوت واقعی ہوتی یعنی خدا تعالٰی ہو تا تو کیوں یہ اندھیر ہوتا۔دیکھو کیسی باریک دربار یک طریقہ سے دہریت کی تعلیم۔(۹۱) مئی ۱۹۰۹ء) مجھ سے ایک آریہ نے اعتراض کیا کہ تم قبلہ کی سمت کو کیوں معزز سمجھتے ہو اور نمازوں میں اس طرف کو منہ کرتے ہو ؟ میں نے کہا کہ ہون کرتے وقت تم اس طرف پشت کیوں نہیں کر لیتے ؟ پھر اب جو تم نے مجھ سے بات کی تو میری طرف پشت کیوں نہیں کی ؟ کہنے لگا اب کبھی یہ اعتراض نہ کروں گا۔(۲۰) مئی ۱۹۰۹ء) ایک نو مسلم لڑکے کی تعلیم پر میں نے ہزار ہا روپیہ خرچ کیا۔اس نے مجھ کو ایک کارڈ لکھا کہ میں تمہارے اس ناپاک مذہب اسلام سے پھرتا ہوں اور اب گنگا نہانے یعنی پوتر ہونے جاتا ہوں۔میں نے اس کو لکھا کہ تمہارا روح افزا کارڈ پہنچا۔اگر تم ایک مرتد ہو گے تو اللہ تعالیٰ ہم کو ایک جماعت دے گا اور یہ آیت بھی لکھی يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَنْ يَرْتَدُ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي الله۔۔۔۔۔(مائدہ) جس وقت یہ کار ڈلکھا تھا اس وقت سید حامد شاہ بھی کشمیر ہی میں میرے پاس تھے۔وہ لڑکا اب ہمارے مریدوں میں ہے۔(۸/جون ۱۹۰۹ء) ایک سراؤگی (بینی) کے کیڑے پڑ گئے۔میں نے تیزاب ڈال کر ان تمام کیٹروں کو ہلاک اور زخم کو صاف کیا۔وہ مجھ کو بڑی دعا ئیں دینے اور کہنے لگا کہ مہاراج بڑی کرپا ہوئی۔میں نے کہا۔کرپا کیا خاک ہوئی ؟ تمہارے مذہب پر تو پانی پھر گیا۔ایک جیو کے عوض میں ہزاروں جیو ہلاک ہوئے۔