مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 282
۲۸۲ ہم نے اس دری باف کو دیکھا ہے اور آپ کے صانع کو ہم نے نہیں دیکھا۔میں نے کہا ڈا کٹر! سوچ کر کہو۔تم نے اس دری کے دری باف کو دیکھا ہے کیا یہ سچ ہے ؟ کہا کہ اس کے مثل کو دیکھا ہے۔میں نے کہا کیا اس کی اور مثل ہے؟ تو بولا اصل بات یہ ہے کہ میں بچہ تھا جب میں نے مولوی صاحب کو دیکھا اس لئے میں اس وقت بحث میں دب گیا ہوں۔(۳/ جنوری ۱۹۰۷ء) میں نے ایک برہمو سے پوچھا کہ تمہارا اصل اصول کیا ہے۔اس نے کہا کہ دعا۔میں نے کہا تم غلط کہتے ہو۔کہا کس طرح؟ میں نے کہا مشاہدہ - کہا وہ کیونکر ؟ میں نے کہا تم اپنی کوئی اعلیٰ درجہ کی دعا سناؤ تو سہی۔اس کو شرم سی آگئی اور کچھ دیر چپ رہ کر کہا کہ آپ ہی سنائیں۔میں نے کہا دعویٰ تمہارا اور سناؤں میں۔خیر اس کے اصرار پر میں نے سورہ فاتحہ کو بہت سی باتیں مد نظر رکھ کر مع ترجمہ سنانا شروع کیا تو اس نے جھٹ نوٹ بک نکال کر لکھنا شروع کیا اور کہا کہ اصل دعا تو یہی ہے۔(۶ ارمئی ۱۹۰۹ء) ایک آریہ نے مجھ سے اعتراض کیا کہ تمہاری شریعت میں مردوں کے واسطے جنت میں بدلہ ملنے کا ذکر ہے ، عورتوں کے لئے نہیں۔میں نے اس کو یہ آیت پڑھ کر سنائی لا أُضِيعُ فَعَلَ عَامِلٍ مِنْكُمْ مِّنْ ذَكَر وانثى۔(۱۹ مئی ۱۹۰۹ء) ایک شخص کو میں نے دیکھا کہ وہ طالب علموں کو ساتھ لے کر بڑے بڑے عالی شان مکانوں کے قریب جاتا اور ان کو دیکھ کر کہتا کہ میرے دل میں بڑی تمنا ہے کہ یہ عربی کے مدر سے ہوتے اور مسلمان ایسے ہوتے ، ایسے ہوتے۔یوں عزت و احترام کے ساتھ رہتے