مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 22 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 22

۲۲ ہیں۔(خواہ کہانیوں، نظموں اور گیتوں ہی میں سہی) اس قوم میں قومی امتیازات اور خصوصیات بھی محفوظ اور قائم رہتے ہیں اور یہ قومی خصوصیات قوم کے افراد کا کسی میدان اور کسی مقابلہ میں دل نہیں ٹوٹنے دیتے اور ہمت کی کمر چست رکھ کر انجام کار کھوئے ہوئے کمالات تک پھر پہنچا دیتے ہیں۔ایک وہ شخص جو اپنے باپ دادا کے حالات سے بے خبر ہے۔موقع پا کر خیانت کر سکتا ہے۔لیکن جو یہ جانتا ہے کہ میرے دادا نے فلاں موقع پر لاکھوں روپوں کی پروانہ کر کے اور دیانت کو ہاتھ سے نہ دے کر عزت و ناموری حاصل کی تھی، اس سے خیانت کا ارتکاب دشوار ہے۔ایک وہ شخص جو اپنے دادا کے حالات سے بے خبر ہے ، میدان جنگ سے جان بچا کر فرار کی عار گوار کر سکتا ہے۔لیکن جو واقف ہے کہ میرے باپ نے فلاں فلاں میدانوں میں اپنی جان کو معرض ہلاکت میں ڈال کر میدان جنگ سے منہ نہ موڑ کر عزت اور شہرت حاصل کی تھی وہ کبھی نہ بھاگ سکے گا اور بھاگنے کا خیال دل میں آتے ہی اس کے باپ کے کارناموں کی یاد زنجیر پا ہو جائے گی۔اسی طرح وفاداری و بے وفائی ، جھوٹ اور بیچ، زنا و پاک دامنی ، حیا اور بے حیائی، بخل و سخاوت و غیرہ بہت سی باتوں کو قیاس کرلو بزرگوں کے حالات کی واقفیت ہی دنیا میں بہت کچھ امن اور قوموں میں زندگی کی روح پیدا کر سکتی ہے۔اسلام کے دنیا پر بے شمار احسانات ہیں۔انہیں میں یہ ایک عظیم الشان احسان ہے کہ مسلمانوں ہی نے دنیا میں علم تاریخ کی ترویج کی اور مسلمانوں ہی سے سیکھ کر دوسری قوموں نے اس فن میں ترقی کی۔کیسے افسوس اور کس قدر ملال کا مقام ہے کہ آجکل مسلمان ہی سب سے زیادہ اپنے بزرگوں کے حالات سے بے خبر پائے جاتے ہیں۔بنی اسرائیل کی کیسی عظیم الشان قوم تھی کہ نَحْنُ ابْنُوا اللَّهِ وَاحِبَّاؤُهُ تک کہنے کا حوصلہ کیا لیکن جب اپنے بزرگوں کے حالات سے بے خبر ہوتے گئے ، قعر مذلت میں اترتے گئے۔چنانچہ قرآن کریم میں خدائے تعالیٰ نے يَا بَنِي إِسْرَاءِيلَ اذْكُرُوا کے الفاظ سے بار بار ان کو مخاطب فرمایا اور ان کے بزرگوں کے حالات کو یاد دلایا ہے۔پس