مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 21 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 21

۲۱ آماده کردیتی اور سِيرُوا فِي الأَرْضِ کے حکم کی تعمیل کراتی ہے۔یہی پیاس ہے جو بچوں کو رات کے وقت چڑے چڑیا کی کہانی طوطے مینا کی داستان کے سننے اور سنانے پر آمادہ کرتی ہے۔یہی پیاس ہے جو تاریخی مطالعہ سے کما حقہ تسکین پاتی اور فَاسْتَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ کے ارشاد کی تعمیل پر آمادہ کر کے انسان کو مقاصد عالیہ تک پہنچانے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔فطرت کے اس تقاضے پر نظر فرما کر فطرتوں کے خالق نے کتب سماویہ میں تاریخی چاشنی رکھی ہے۔فرضی قصوں، جھوٹے ناولوں اور بے بنیاد کہانیوں میں بھی ایک تاثیر به مقدار کثیر موجود ہوتی ہے اور اسی لئے بعض علماء نے پند و وعظ کو کہانیوں کے لباس میں پیش کرنا مناسب سمجھا مثلاً کلیله دمنه وغیرہ۔لیکن فطرت انسانی جو پاک و صاف اور مطہر و مصفی چیزوں کی جانب مائل مخلوق ہوئی ہے کذب و دروغ کی بدبو کے سبب اس جوش اور طاقت کے ساتھ فرضی کہانیوں کی طرف نہیں جھکتی جیسی سچے حالات اور واقعات صحیحہ یعنی تاریخ کی جانب۔اور یہی سبب ہے کہ علم تاریخ سے ان لوگوں کو جن کی فطرتیں رذیل اور مسخ شدہ ہوتی ہیں کوئی تعلق کبھی نہیں ہوا۔دنیا میں کوئی رذیل اور کمینہ یا کوئی دہر یہ اعلیٰ درجہ کا مورخ نہیں ہوا۔انسان چونکہ مل جل کر رہنے اور ہم جنسوں کے ساتھ محبت وہمدردی سے بسر کرنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔لہذا جو واقعہ جس قدر زیادہ ہم جنس سے تعلق رکھتا ہے اسی قدر اس کا زیادہ اثر ہوتا ہے۔کسی بیل یا گھوڑے کے حالات اس قدر موثر نہیں ہو سکتے جس قدر کسی انسان کے۔پھر کسی دوسرے ملک کے تاریخی حالات سے اس قدر دلچسپی نہیں ہوتی جس قدر اپنے ملک کے واقعات سے۔پھر کسی دوسری قوم و مذہب کی تاریخ اس قدر باعث دل بستگی نہیں ہوتی جس قدر اپنی قوم اور اپنے مذہب کی۔اپنی دادی یا نانی سے اپنے خاندانی بزرگوں کے حالات سن کر ہمارے دل میں جس قدر جوش ، خوشی، غم ، غصہ وغیرہ پیدا ہوتے ہیں محلہ کے دوسرے پرانے لوگوں کے حالات سے وہ کیفیت پیدا نہیں ہوتی۔جس قوم میں قوم کے تاریخی حالات اور پاکستانی واقعات پورے طور پر شائع ہوتے