مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 264 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 264

کامنہ کس طرف تھا اور تاریخ کیا تھی۔وقت کیا تھا۔وغیرہ وغیرہ۔غرض کہ گواہوں میں کچھ کچھ اختلاف ہوا۔اور مولوی صاحب نے فریق ثانی کی نسبت فتویٰ لکھ دیا کہ وہ حرامی ہے۔جب اس کا حال مجھ کو معلوم ہوا تو میں مولوی صاحب کے پاس گیا اور کہا کہ یہ آپ نے کیا غضب کیا ؟ مولوی صاحب نے کہا کہ گواہوں میں اختلاف ہی بہت ہے۔کیا کیا جائے ؟ میں نے کہا کہ اچھا حضرت آیہ تو فرمائیے کہ اگر آپ سے آپ کی ماں کے نکاح کے گواہ طلب کئے جائیں تو آپ ثبوت دے سکتے ہیں ؟ سوچ کر کہا کہ نہیں۔میں نے کہا پھر ! کہا میں حیران ہوں اب کیا کیا جائے ؟ تب میں نے کہا کہ فقہ کا مسئلہ ہے کہ نسب میں گواہی کی ضرورت بالکل نہیں۔بس عرف عام کافی ہے۔تب مولوی صاحب کی سمجھ میں آیا۔(۲۶) ستمبر ۱۹۰۸ء) جموں میں میرے پاس ایک بہت بڑے مونوی صاحب آئے جو اب بھی زندہ ہیں۔بہت دنوں تک میرے پاس رہے اور بڑی محبت سے پیش آتے تھے۔ایک روز مجھ کو بہت ہی موافق دیکھ کر محبت کے عالم میں فرمایا کہ مجھ کو تسخیر کا عمل بتادو۔میں نے کہا کہ میں تو دعا ہی کرتا ہوں۔آپ بھی دعا ہی کیا کریں۔میری بات کا ان کو یقین نہ آیا اور ناراض ہو کر چلے گئے۔(۳۰/ جنوری ۱۹۱۲ء) ایک مرتبہ ایک شخص نے مجھ سے کہا کہ ہم تم کو عمل تسخیر بتائے دیتے ہیں۔میں نے کہا که قرآن کریم میں لکھا ہے۔وَسَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ یعنی جو کچھ زمین و آسمان میں ہے ہم نے تمہارا مسخر بنا دیا ہے۔اب اس۔زیادہ آپ مجھ کو کیا بتائیں گے ؟ سن کر حیران سا رہ گیا۔