مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 265
۲۶۵ (۱۸ر اپریل ۱۹۰۹ء) میں نے ایک مولوی سے کہا کہ ہمارے نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جس طرح احیاء کرتے تھے اسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام نے مردوں کو زندہ کیا۔وہ کہنے لگے کہ یہ تو ایک معمولی سی بات ہے۔میں نے کہا کہ اگر یہ معمولی بات ہے تو آپ اب بڑھے ہو گئے۔بتاؤ اس وقت تک کس قدر احیاء کیا۔یعنی کتنے شخصوں کو نیک بنایا۔کہا ہم نے تو نہیں بنایا۔میں نے کہا۔اچھا۔آپ نے کسی بڑے آدمی کو نیک بنانے کی کوشش بھی کی۔کہا کہ نہیں۔میں نے کہا آپ نے اپنے کسی بزرگ یا استاد کو کوشش کرتے دیکھا؟ کہا نہیں۔میں نے کہا تم نے تو کہا تھا کہ یہ معمولی کام ہے۔(۲۴) فروری ۱۹۱۲ء) میں نے کبھی کسی چور ڈاکو - رشوت خور جعل ساز کو راحت کی حالت میں نہیں دیکھا۔ایک مرتبہ میں نے خلیفہ نورالدین جمونی سے ایک خط لکھوایا اور ایک مولوی صاحب کو جو جعل سازی میں مشہور تھے ، دیا۔خفیہ طور پر میں نے اس پر ایک غیر محسوس نشان بنا دیا تھا۔وہ مولوی خطہ بنا کر لائے تو وہ نشان بھی اس پر موجود تھا۔میں حیران رہ گیا۔ان سے پوچھا کہ اصل کونسا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ اس کو تو اب میں بھی نہیں بتا سکتا۔وہی مولوی سنانے لگے کہ ایک مرتبہ میں نے ایک ساہوکار کے قرضداروں کو ہندی میں رسیدیں بنا دیں۔جن کا اس ساہوکار سے عدالت میں انکار نہ ہو سکا۔وجہ یہ تھی کہ اس نے ہم کو ایک دفعہ روپیہ نہیں دیا تھا۔اسی مولوی کا ابھی تھوڑے دن ہوئے خط آیا۔وہ بالکل پاگل ہو گئے۔مال و متاع ان کے پاس کچھ نہیں۔(۱۴) مئی ۱۹۰۹ء) میں امرتسر میں ایک شخص کے ساتھ صبح سے دوپہر تک سیر کرتا پھرا۔میں نے اس عرصہ