مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 263
۲۶۳ مذہب ہے۔لیکن یہ میں نہیں جانتا کہ وہ (اسلام) ہے کیا اور اس کی اصلیت کیا ہے ؟ بہر حال میں مسلمان ہوں۔چنانچہ میں اس روز سے مسلمان ہوں لیکن آج تک کسی مولوی سے نہیں ملا اور نہ کسی مولوی کی باتیں سنیں۔آج آپ کی باتیں سن کر میرا خیال اس قدر بد لا کہ سب مولوی یکساں نہیں ہوتے لیکن مجھے کو ڈر معلوم ہوتا ہے کہ کسی مولوی کی بات سن کر پھر عیسائی نہ ہو جاؤں اور میری خواہش یہ ہے کہ مسلمان ہی مروں۔(۱۸) اگست ۱۹۰۸ء) ہمارے ننھیال میں ایک نو عمر مولوی آیا۔وہ بڑا کٹر وہابی تھا۔میں نے اس کے پاس ایک کتاب دیکھی تو پہلا ورق جس پر کتاب کا نام ہوتا ہے اس پر دار الشفاء لکھا ہوا تھا۔جب میں نے اندر سے کتاب کو کھول کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ زینۃ الاسلام ہے۔میں نے کہا کہ یہ کیا بات ہے؟ کہا کہ زینة الاسلام کو سب جانتے ہیں کہ وہابیوں کی کتاب ہے اس لئے اس کا سرورق پھاڑ کر دار لشفاء کا سرورق چسپاں کر لیا ہے۔مضمون سے بھلا کس کو خبر ہے۔بس ہم تو اسی کتاب کو پڑھ کر سناتے اور اسی کا وعظ کرتے ہیں۔(۱۸) اگست ۱۹۰۸ء) ایک بہت بڑے مولوی صاحب کے پاس دو شیعہ بھائی جو سوتیلے بھائی تھے گئے۔ان دونوں میں جائداد کے معاملہ میں مقدمہ بازی تھی۔ان میں سے ایک بھائی نے جو چالاک تھا دوسرے بھائی سے کہا کہ تو اس بات کو ثابت کر کہ میرے باپ نے تیری ماں سے نکاح کیا تھا۔چنانچه مولوی صاحب کی خدمت میں فریق ثانی نے بڑی کوشش کر کے گواہ پیش کئے۔مولوی صاحب کو فریقین نے اپنے مقدمہ کے فیصلہ کے لئے پنچ مقرر کیا تھا۔بہت برس نکاح کو گزر گئے تھے۔مدعی نے مولوی صاحب سے کہا کہ ہر ایک گواہ سے علیحدہ علیحدہ دریافت کیجئے۔مولوی صاحب نے ایسا ہی کیا۔ہر ایک گواہ سے مدعی سوال کرتا تھا کہ نکاح کے وقت میرے