مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 244 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 244

۲۴۴ دیوی جی کے مندر سے دو پتے لائے۔ان کے کوئی اولاد نہ تھی اور دو بیویاں تھیں۔ایک نے پستہ نہ کھایا۔دوسری نے دونوں کھالئے اور ہم دو بھائی پیدا ہو گئے۔میں نے کہا تمہارے بھائی شب لال بڑی بھنگ پیتے ہیں۔تم بھی ان سے تنگ ہو۔کہا ہاں۔موتی رام ہمیشہ دائم المریض رہتے تھے۔میں نے کہا تم ہمیشہ مریض رہتے ہو۔کہا ہاں۔میں نے کہا پھر میں ایسے لڑکے کیا کروں گا۔اسی طرح کشمیر میں ایک مندر نیا بنایا گیا۔اس میں ایک بڑی بھاری پتھر کی مورت رکھنی تھی۔بہت سے کشمیری مسلمانوں کو بلایا۔انہوں نے رسے باندھے کچھ اوپر سے کھینچتے تھے کچھ نیچے سے دھکیلتے تھے۔اوپر والے کہتے تھے لا الہ نیچے والے کہتے تھے الا اللہ۔اسی طرح اس کو چڑھا رہے تھے۔میں نے ایک ہندو سے جو مہذب معلوم ہو تا تھا کہا کہ یہ بدوں توحید کے تو چڑھتا نہیں۔اس نے کہا کہ یہ ابھی پاک نہیں۔میں نے کہا تو ابھی یہ ناپاک ہے۔کہا کہ ہاں ایسا ہی کہنا پڑتا ہے۔بت پرستی بڑی لغو چیز ہے۔بت پرستوں کی عقل ماری جاتی ہے۔تعجب ہے کہ ہمارے مسلمان بھی بت پرستی میں گرفتار ہیں۔(۵) جنوری ۱۹۰۹ء) میں کشمیر میں تھا۔ایک روز دربار کو جارہا تھا۔یار محمد خاں ایک شخص میری اردلی میں تھا۔اس نے راستہ میں مجھ سے کہا کہ آپ کے پاس جو یہ پشمینہ کی چادر ہے یہ ایسی ہے کہ میں اس کو اوڑھ کر آپ کی اردلی میں بھی نہیں چل سکتا۔میں نے اس سے کہا کہ تجھ کو اگر بری معلوم ہوتی ہے تو میرے خدا کو تجھ سے بھی زیادہ میرا خیال ہے۔میں جب دربار میں گیا تو وہاں مہاراجہ نے کہا کہ آپ نے ہیضہ کی وبا میں بڑی کوشش کی ہے آپ کو تو خلعت ملنا چاہئے۔چنانچہ ایک قیمتی خلعت دیا۔اس میں جو چادر تھی وہ نہایت ہی قیمتی تھی۔میں نے یار محمد خاں سے کہا کہ دیکھو ہمارے خدا تعالیٰ کو ہمارا کیسا خیال ہے۔