مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 245 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 245

۲۴۵ (1) دسمبر ۱۹۱۱ء) میں کشمیر میں تھا۔وہاں ایک نجوم کا اعلم العلماء یعنی تمام پنڈتوں کا استاد جو تشی تھا۔اس کی رسائی مہاراجہ کے گھر میں اندر عورتوں تک بھی تھی۔میں نے ان ایام میں کچھ عرصہ سے دربار میں جانا چھوڑ دیا تھا۔میں نے اس سے پوچھا کہ یہ بتاؤ ہم دربار میں کب جائیں گے؟ اس نے اپنے بہت سے شاگردوں کو جمع کرکے کہا کہ اس سوال پر غور کرو۔سب نے اتفاق کر کے ایک تاریخ مقرر کی۔میں نے کہا یہ تاریخ غلط ہے۔پھر پنڈت صاحب نے خود بھی غور کی اور سب کے اتفاق سے ایک تاریخ معین ہوئی۔میں نے کہا کہ یہ بھی غلط ہے۔پھر میں نے کہا کہ ہم بتاتے ہیں۔رات کا پچھلا حصہ ہو گا۔فلاں تاریخ ہوگی جب ہم بلائے جائیں گے۔اگر کہو تو اس وقت تم کو بھی جگا دیں۔چنانچہ اسی تاریخ اور اسی وقت جب آدمی بلانے آیا تو میں نے اس سے کہا کہ فلاں راستہ سے چلیں گے۔چنانچہ راستہ میں جب پنڈت جی کا مکان آیا تو میں نے پنڈت جی کو بلایا وہ سوتے ہوئے اٹھ کر باہر آئے۔میں نے کہا کہ دیکھو ہم بلائے ہوئے جا رہے ہیں۔اس کے بعد پنڈت جی مجھ سے کہا کرتے تھے کہ ”مہاراج تمہارا تا جک بڑا ز بر دست ہے ہم کو بھی بتادو " ہماری نجوم در حقیقت صرف اس قدر تھی کہ پیشتر سے یہ معلوم تھا کہ فلاں تاریخ کو آم آنے والے ہیں۔میں جانتا تھا کہ یہ بہت کھا جائیں گے۔اور ہماری ضرورت پڑے گی۔آم کھانے سے ہمیشہ رات کے پچھلے حصہ میں نفخ ہوا کرتا تھا۔(۱۳) مئی ۱۹۰۹ء) میں پندرہ سولہ برس تک ایک غیر مسلم (مہاراجہ کشمیر) کا نو کر رہا۔مجھ کو ایک دفعہ بھی سلام نہ کرنا پڑا۔صرف ایک دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ تمام اہل دربار کو نذریں دکھانی لازمی تھیں۔نذر دکھلانا بھی ایک قسم کا سلام ہی ہے۔موقع کچھ ایسا ہی تھا کہ میں نے بھی نذر دکھلانے کا عزم کیا۔روپیہ ہاتھ میں لے کر جب میں نذر دکھلانے والا تھا۔ویسے ہی بلا کسی خیال کے میری نظر روپیہ پر پڑی۔میں ہتھیلی پر روپیہ لئے ہوئے خود ہی جب اس کو دیکھ رہا تھا