مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 243 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 243

(۲ جون ۱۹۰۹ ء بعد نماز عصر قبل از درس) میں رامپور میں تین سال تک رہا ہوں۔وہاں کے پٹھانوں کے اکثر حالات سے واقف ہوں۔عموماً یا تو قصائی کی دوکان پر ان کی لڑائی ہوتی ہے یا لڑکوں کے پیچھے۔یہ پٹھان لوگ بڑے شریف اور باوفا ہوتے ہیں اور شریفانہ خصائل پٹھانوں کے بہت ہی قابل ستائش ہوتے ہیں ( آگے کلن خاں رامپوری کا قصہ بیان فرمایا جو آپ نے اپنے سوانح میں بھی لکھوایا ہے اسی لئے یہاں نہیں لکھا جاتا۔) مولانا مولوی محمد علی صاحب کی بڑی بیوی کے کفن دفن سے فارغ ہو کر مسجد مبارک میں آئے اور ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کی لڑکی حمیدہ بیگم اور بابو شاہدین مرحوم کی چھوٹی بیوی رسول بیگم دونوں کے نکاح کا خطبہ پڑھا۔(دونوں کا نکاح حسب ترتیب اسد اللہ اور بابو منظور الہی کے ساتھ ہوا) اور خطبہ میں فرمایا :- قاری عبدالرحیم صاحب رام پوری جو آخر میرٹھ میں رہتے تھے۔میرے ایک مخلص دوست نے ان سے دریافت کیا کہ تم سب بھائی اس قدر نیک اور فرشتہ خصال کیوں ہو؟ انہوں نے فرمایا کہ ہمارے ماں باپ جب قصد جماع کرتے تو ان کی عادت تھی کہ پہلے دونوں دعائیں مانگتے رہتے کہ الہی تو ہم کو صالح اولاد عطا کر۔اسی کا یہ اثر ہے کہ ہم سب بھائی ایسے ہیں۔اللهم جنبنا الشيطن وجنب الشيطان ما رزقتنا - کشمیر وجموں (۳/ دسمبر ۱۹۱۳ء) ہمارے ایک واقف کار موتی رام تھے۔میرے ایک لڑکے کا انتقال ہوا تو موتی رام کہنے لگا کہ دیکھو مولوی صاحب ! مشاہدہ کا تو انکار نہیں ہو سکتا۔میں نے کہا ہاں۔کہا کہ ہمارے باپ