مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 231 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 231

۲۳۱ (۲۳) اپریل ۱۹۱۲ء) ہمارے شہر میں ایک کنچنی رہتی تھی۔روزانہ میرے پاس آتی اور کہتی کہ تو بہ کیا ہوتی ہے؟ میں بہت تنگ ہوا۔کچھ عرصہ وہ غیر حاضر اور غائب رہی۔پھر ایک روز خوب بن ٹھن کر آئی اور کہنے لگی کہ تو بہ سے تو بھوکے مرنے لگے تھے۔ہولیوں میں فلاں مقام پر گئے تو اتنے روپے کما لائے۔مجھ کو سن کر بڑا جوش آیا۔میں نے کہا۔اٹھ جا۔یہ ہمارا امکان ہے۔تجھ کو یہ روپیہ کھانا بھی نصیب نہ ہو گا اور توبہ بھی نصیب نہ ہو گی۔وہ اٹھ کر چلی گئی۔جاتے ہی اس پر فالج گرا۔اس کا ایک رشتہ دار دوڑتا ہوا میرے پاس آیا۔میں نے کہا۔وہ اب نہیں بچے گی۔اس نے کہا خیر وہ نہ بچے لیکن روپیہ جو وہ لائی ہے وہ ہم کو معلوم نہیں اس نے کہاں رکھا ہے؟ اتنا ہو کہ وہ روپیہ تو بتادے کیونکہ ہمارے گھر جب کوئی مرتا ہے تو پانچ سو روپیہ برادری کی روٹی میں خرچ ہوتا ہے۔میں نے کہا وہ روپیہ بھی نہ ملے گا۔وہ سخت حیران ہوا۔آخر اس کے بہت اصرار پر میں نے کہا اچھا چلو۔جا کر دیکھا کہ بالکل بے ہوش پڑی ہے۔ایک آدمی نے بہت زور سے آوازیں دیں لیکن کچھ نہ بولی۔میں نے آس پاس کی تمام بد کار عورتوں کو بلوایا وہ آگئیں۔میں نے کہا کہ اس نے توبہ کی حقارت کی ہے۔دیکھو اب یہ بغیر تو بہ مرتی ہے۔تم بتاؤ تمہارا کیا فشا ہے۔ان میں جو سب سے زیادہ بد کار تھی۔اول اسی نے کہا کہ میں تو تو بہ کرتی ہوں۔میں نے کہا تم اس کے مرنے پر کھانا بھی برادری کو نہ کھلاؤ۔کیونکہ اگر بد نامی بھی ہوگی تو کس قوم میں؟ ان سب کی سمجھ میں آگیا اور کوئی کھانا وغیرہ بھی برادری کو نہ دیا۔(۲۵) مئی ۱۹۰۹ء) بھیرہ میں میرے ایک دوست تھے میں نے ان سے ایک کتاب چند مرتبہ مستعار مانگی۔انہوں نے دینے کا وعدہ کیا۔پھر ایک روز میں نے ان سے بازار میں کہا تو انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ان کی زبان سے جواب صاف سن کر میں نے بلند آواز سے انا لله وانا اليه راجعون پڑھا۔چند ہی روز کے بعد پشاور سے ایک بڑا پلندہ بذریعہ ڈاک آیا۔جس