مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 230
۲۳۰ تھے۔وہیں یہ گفتگو ہوئی تھی۔اسی وقت کھڑے ہو گئے اور اس مولوی کو ہمراہ لے کر چل کھڑے ہوئے۔شہر میں آئے اور ایک رنڈی کے مکان میں مع تمام لاؤ لشکر اور سامان اور مع اس مولوی کے چلے گئے۔وہاں وہ رنڈی گا رہی تھی۔یہ سب جاکر خاموش کھڑے ہو گئے۔رنڈی نے جب اس طرح ان کو کھڑے ہوئے دیکھا تو وہ اپنا گانا ختم کر کے کھڑی ہو گئی اور ہاتھ جوڑ کر کہا کہ آپ تشریف لائیے اور کرم فرمائیے۔انہوں نے فرمایا کہ واہ صاحب! آپ نے گانا کیوں چھوڑ دیا ؟ پھر کہا کہ ان مولوی صاحب کو تو خد اتعالیٰ مل ہی گیا ہو گا لیکن ان کی بیوی اور بیٹی محروم ہیں ان کو بھی تم بلا کر تعلیم دو تاکہ خداشناسی سے وہ بھی محروم نہ رہیں۔(۲۹) مئی ۱۹۱۰ء) میں اس بات سے ہمیشہ متعجب رہا کرتا تھا کہ عرب کے لوگ تور حمن کو جانتے تھے پھر وہ کیوں چڑتے اور انکار کرتے تھے۔ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ حکیم فضل الدین کی مسجد میں آمین بالجہر پر لوگوں میں جھگڑا ہوا۔میں نے جا کر پوچھا تو وہاں کے لوگ کہنے لگے کہ ہم آئین کو بہت اچھا سمجھتے ہیں لیکن ہمارے یہاں کبھی آمین بالجہر کہتے نہیں۔اس وقت میرا وہ تعجب دور ہو گیا اور بات سمجھ میں آگئی۔(۱۳/ نومبر ۱۹۱۰ء) میں ایک مرتبہ ایک گلی میں جاتا تھا۔ایک فقیر نے مجھ سے ایک پیسہ مانگا۔میں نے کہا سائیں ! تم تو سب کچھ چھوڑ بیٹھے ہو اور کہتے ہو کہ ہم سب سے آزاد ہیں۔پھر اس قدر محتاج! میں تو دنیا دار ہوں یعنی میرے بیوی بچے بھی ہیں۔مجھ سے تم کو التجا کرنی پڑی۔ذرا یہ بتا دو کہ آزادی کیسی اور کیا چیز ہے؟ اس نے اپنے مرشد کو ایک بڑی گندی گالی دی کہ اس نے مجھ کو پوست پینے کی عادت ڈالی اور کہا کہ لاؤ پوست پینے کے لئے پیسہ دلواؤ۔