مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 232
میں بھیجنے والے کا نام نہ تھا۔اس میں وہی کتاب۔اس کتاب کی شرح اور اس فن کی اور کتابیں بھی تھیں۔میں نے اس قسم کے سب آدمیوں سے اس کا تذکرہ کیا لیکن کچھ پتہ نہ چلا کہ یہ کتابیں کس نے بھجوائیں اور کیوں بھجوائیں۔میں نے ایک مرتبہ ایک امیر آدمی کے سامنے بھی تذکرہ کیا۔وہ میرا ہم خیال نہ تھا۔اس نے کہا گو میں آپ کا ہم خیال نہیں ہوں لیکن آپ کی وہ انا للہ مجھ کو کھا گئی۔اس کتاب کے پشاور ہونے کا مجھ کو علم تھا۔میں نے اپنے آدمی کو لکھا کہ خرید کر آپ کے نام روانہ کردے۔(۴ / جون ۱۹۰۹ء) میں ایک شہر میں مدرس تھا۔میرے پاس ایک دوست آکر ٹھہرے۔اس شہر میں پانی دریا سے لاتے ہیں کنوؤں کا رواج نہیں۔دریا پر جانے کا راستہ مدرسہ کے سامنے کو تھا۔دریا سے کچھ ہندو عورتیں پانی لا رہی تھیں۔صاف ستھری ساڑھیاں باندھے خوبصورت لباس پہنے اور پیتل کی چمکدار گاگریں سروں پر رکھے آرہی تھیں۔ان کے پیچھے چند مسلمان عورتیں نیلے نیلے میلے میلے کپڑے پہنے اور مٹی کے کثیف گھڑے سروں پر رکھے آ رہی تھیں۔میرے وہ دوست باہر کھڑے ہوئے دیکھ رہے تھے۔انہوں نے مجھ کو آواز دی کہ جلدی باہر آؤ۔میں گھبرا کر جلدی سے باہر آیا۔تو مجھ سے کہا کہ کیا یہ پیچھے جانے والی ان اگلی جانے والیوں سے یہ کہہ سکتی ہیں کہ تم مسلمان ہو جاؤ۔(۲۹ / دسمبر ۱۹۰۶ء) حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم لڑائیوں میں اپنی بیوی عائشہ صدیقہ اور اپنی بیٹی فاطمہ کو بھی لے جاتے تھے۔کسی تاریخ میں نہیں لکھا کہ یہ دونوں پکڑی گئی ہوں۔میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کبھی شکست نہیں کھائی۔میں ایسی کہانیوں کو جھوٹ سمجھتا ہوں کہ نبی کریم نے شکست بھی کھائی۔میں کسی رسول کے قتل کا