مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 215
۲۱۵ (۲۰ بر مارچ ۱۹۰۹ء) میں نے ایک نوجوان کو مدینہ کے راستہ میں دیکھا کہ پیدل سفر کر رہا تھا۔اس نے مجبورو مضطر ہو کر ایک جاتے ہوئے سوار کو ٹانگ پکڑ کر نیچے کھینچ لیا اور خود سوار ہو گیا۔اس وقت مجھ کو خدا تعالیٰ کا یہ ارشاد یاد آ گیا۔و تزودوا (بقره رکوع ۲۵) متعلق به اساتذہ (۸) فروری ۱۹۱۰ء) ہمارے چار مرشد ہوئے ہیں۔محمد جی بخاری۔عبد القیوم صاحب - شاہ عبد الغنی صاحب- میرزاغلام احمد صاحب مسیح موعود (۱۲) اگست ۱۹۰۸ء) مکہ معظمہ میں ہمارے ایک شیخ تھے۔میں نے ان سے صحیح مسلم پڑھی۔ان کا نام شیخ حسین تھا۔مجھ سے مولوی رحمت اللہ صاحب کہتے تھے کہ میں برس ہو گئے۔لوگ تلاش میں ہیں لیکن آج تک یہ نہ معلوم ہوا کہ یہ کھاتے کہاں سے ہیں۔(۱۳) مئی ۱۹۱۰ء) میرے ایک پیر شاہ عبد الغنی صاحب فرماتے تھے کہ سورۃ نور قرآن شریف میں ہے اور خد اتعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے اس میں بڑے ضروری احکام بیان فرمائے ہیں۔لیکن ہندوستان کے لوگ اس کے کسی حصہ پر نہ توجہ کرتے ہیں نہ عمل کرتے ہیں۔(۱۲۴ مئی ۱۹۰۹ء) حکیم فضل الدین صاحب نے میری کسی بیماری میں گھبرا کر حضرت صاحب ( مسیح موعود)