مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 216
کو لکھ دیا کہ بیمار ہیں۔حضرت صاحب بے تاب ہو کر میرے پاس جموں تشریف لے گئے۔وہاں حضرت صاحب نے ایک جلسہ میں فرمایا تھا کہ انبیاء علیہم السلام بھی ناقة الله ہوتے ہیں۔بھلا ان کو کوئی چھیڑ کر تو دیکھیے۔(۲۵/مئی ۱۹۰۹) میرے ایک استاد تھے مولوی رحمت اللہ۔ان کے عیسائیوں سے بڑے بڑے معرکہ الاراء مباحثے ہوئے۔وہ کرانہ کے رہنے والے تھے۔(۳۱ اکتوبر ۱۹۱۲ء) میں نے اپنے استادوں کو دیکھا ہے وہ ذرا بھی مخالفت کو برادشت نہیں کر سکتے تھے۔بس ایک مولوی رحمت اللہ کو دیکھا ہے کہ میں نے ان کا سخت سے سخت مقابلہ بھی کیا ہے لیکن وہ ہنتے ہی رہتے تھے۔میں نے کسی مولوی کا یہ دل گردہ نہیں دیکھا۔رد نمبر ۱۹۱۲ء) ایک امیر آدمی تھا۔میرے استاد حکیم صاحب نے اس سے کہا کہ آپ نہانے کے پانی میں یہ دو املالیں۔اس نے کہا کہ حکیم صاحب میں تین برس سے نہیں نہایا۔میرے استاد نے کہا کہ آپ منہ بھی دھوتے ہیں؟ کہا کہ میں رومال کو تھوک لگا کر منہ صاف کر لیتا ہوں۔حکیم صاحب نے کہا کہ پھر آپ کا مذہب کیا ہوا؟ اس نے کہا جو کسی بڑی حسین کہنچنی کا مذہب ہو وہی ہمارا مذہب ہے کہ اس کے ساتھ اسی کا ہم مذہب ہو کر خوب لطف آئے۔وہ امیر آدمی کئی لاکھ آدمیوں پر حکومت کرتا اور ایک بڑے ملک کا مالک تھا۔