مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 214 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 214

۲۱۳ کہیں کسی سے ذکر ہو تا تو میں خدا تعالیٰ سے دعامانگا کر تا کہ یہ شخص اس جو ہر و عرض والی بات پر اعتراض نہ کرے۔میری طالب علمی کے زمانہ میں کسی نے اعتراض نہ کیا۔میں جب بھوپال گیا تو وہاں ایک مفتی صاحب سے میں نے کہا کہ خواجہ محمد پارسا کی کتاب فصل الخطاب مجھ کو کہیں سے لادو۔انہوں نے وہ کتاب مجھ کو دی۔میں نے جب اس کو اول ہی کھولا تو میری نظر اس مقام پر پڑی کہ ”جو سید ہو اور پھر وہ سید بادشاہ بھی ہو۔اس کی تعریف میں یہ کہنا کہ وہ چمار بھی نہیں۔وہ بھنگی بھی نہیں وغیرہ سخت حماقت ہے۔جب ہم نے کہا اللہ تو پھر جو ہر و عرض وغیرہ کی سب صفات تو خود اس کے نام اللہ ہی سے رد ہو گئیں۔یہ دیکھ کر میری طبیعت بڑی خوش ہوئی۔پھر میں نے اس کتاب کو خود مہیا کیا اور راب الحمد للہ میرے پاس کتب خانہ میں موجود ہے۔میں نے اس کو بہت پڑھا ہے۔وہ تصوف کی ایک کتاب ہے اور یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنی کئی کتابوں کا نام فصل الخطاب رکھا ہے۔(۳) اگست ۱۹۰۸ء) میں نے ایک مرتبہ جرمن کے عربی جاننے والے پروفیسروں کو لکھا کہ وہ کون کونسی کتابیں ہیں جن کے پڑھنے سے زبان عربی بہت اعلیٰ درجہ کی آجائے۔انہوں نے جن کتابوں کے نام لکھ کر بھیجے ان میں یہ کتابیں بالاتفاق سب نے لکھیں۔القرآن - البخاری - المسلم۔امام شافعی کی کتاب الام احیاء العلوم جاحظ کی کل کتابیں۔مبرد کی کتاب الكامل۔العقد الفريد سيرت ابن هشام تاریخ طبری فتوح البلدان تقويم البلدان مقدمه ابن خلدون شفا - رحله ابن بطوطه۔الف ليلى كليله د منه سبع معلقه حماسه اغانی دیوان جرير - سقط الزند۔قانون بو على سينا -