مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 184 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 184

دھار انگر ایک مشہور شہر تھا جو بالکل ویران ہے۔تیسرا باہو کا قلعہ میرے سامنے ہے اور وہ بھی بہت بڑے طاقت ور راجوں کا قلعہ تھا۔ہمارے لئے ان سے بڑھ کر کوئی واعظ ممکن نہیں۔پھر جن لوگوں کے ہم نے ملک لئے وہ بھی کچھ کم واعظ نہیں ہیں۔ایک شخص راجہ سورج کول نام وہاں کو نسل کے سینئر ممبر تھے۔ان کے گردہ میں بہت مدت سے درد تھا۔مجھ کو انہوں نے بلایا میری تشخیص میں ان کے گردہ میں پتھری ثابت ہوئی۔جب میں نے بے تکلفی سے ان سے کہہ دیا تو انہوں نے بہت ہی رنج ظاہر کیا اور کہا کہ کیا آپ نہیں جانتے کہ سات انگریز میرے ماتحت رہے ہیں۔میں نے کہا کہ انگریزوں کے ماتحت رہنے سے گردے کی پتھری نہیں رک سکتی۔پھر انہوں نے کہا کہ میرا ایک بیٹا ڈاکٹر ہے۔میں نے کہا کہ بیٹے کے ڈاکٹر ہونے سے بھی باپ کی پتھری نہیں رک سکتی۔اس پر وہ بہت ہی ناراض ہو گئے۔کچھ مدت کے بعد پیری نام ایک انگریز جو لاہور میڈیکل کالج میں پروفیسر تھا۔وہاں گیا اور مہاراج نے ان راجہ صاحب کے درد گردہ کا ذکر کیا اور تاکید کی کہ آپ ضرور علاج کریں۔ڈاکٹر نے انکو جا کر دیکھا اور فکر کرنے لگا کہ اتنے میں راجہ صاحب نے کہا کہ ایک دیسی طبیب نے یہ بھی کہا تھا کہ تمہارے گردہ میں پتھری ہے۔یہ سنتے ہی انگریز نے دوسرے انگریز سے کہا کہ فور اگر دے کو چیر دو۔اس انگریز نے فور اشکاف دیا مگر پتھری اس کو نظر نہ آئی۔اس پر پیری صاحب نے نشتر خود ہاتھ میں لیا اور شگاف کو وسیع کیا تو گر دے کی نالی کے پاس پتھری نظر آئی اس کو نکالا اور بڑی خوشی کی اور میرے متعلق بھی جو کچھ ان سے بن پڑا بہت کچھ تعریفی لفظ بولے۔راجہ صاحب نے پھر مجھے بلایا۔مگر میں نے جانا پسند نہ کیا۔اس پر وہ پھر ناراض ہو گئے۔گو مجھے پورا علم نہیں ہے۔مگر قرائن قویہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے پھر میرا وہاں رہنا اور مجھ کو دیکھنا پسند نہ کیا۔وہاں کے دوسرے ممبر نے جن کا نام باگ رام تھا مجھ سے کہا کہ اگر آپ استعفیٰ دے دیں تو اس میں بڑے مصالح ہیں۔میں نے ان سے کہا کہ بنے ہوئے روزگار کو خود چھوڑنا ہماری شریعت میں پسند نہیں کیا گیا الاقامة في ما اقام الله ضروری ہے۔باگ رام صاحب نے مجھ کو استعفیٰ کی