مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 185
۱۸۵ ترغیب دی لیکن میں نے شرعی امر کو مقدم سمجھا۔آخر ایک روز میری علیحدگی کا پروانہ آیا۔اور جب پھر مجھے کسی تقریب پر وہاں جانا پڑا تو موجودہ مہاراج صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ آپ پر بھی بہت بے جا ظلم ہوا ہے آپ معاف کر دیں۔میں نے کہا یہ تو خد اتعالیٰ کا گناہ ہے۔خدا کا گناہ خدا تعالیٰ ہی معاف کر سکتا ہے۔بندے کی کیا طاقت ہے۔ان کے والد ماجد عالم لوگوں سے خواہ وہ کسی مذہب کے ہوں جیسے کہ میں نے ذکر کیا ہے ڈرتے تھے۔ان دنوں میں مہاراج کو اپنے چھوٹے بھائی صاحب سے کدورت تھی اور میرا ان کے ساتھ بڑا تعلق تھا۔اس لئے اور بھی ممبر صاحب کو موقع مل گیا۔جموں میں حاکم نام ایک ہندو پنساری تھا وہ مجھ سے ہمیشہ نصیحتنا کہا کرتا تھا کہ ہر مہینہ میں ایک سو روپیہ پس انداز کر لیا کریں۔یہاں مشکلات پیش آجاتی ہیں۔میں ہمیشہ یہی کہہ دیا کرتا۔ایسے خیالات کرنا اللہ تعالیٰ پر بدظنی ہے۔ہم پر انشاء اللہ تعالیٰ کبھی مشکلات نہ آئیں گے۔جس دن میں وہاں سے علیحدہ ہوا۔اس دن وہ میرے پاس آیا اور مجھ سے کہا آج شاید آپ کو میری نصیحت یاد آئی ہوگی۔میں نے کہا میں تمہاری نصیحت کو جیسا پہلے حقارت سے دیکھتا تھا۔آج بھی ویسا ہی حقارت سے دیکھتا ہوں۔ابھی وہ مجھ سے باتیں ہی کر رہا تھا کہ خزانہ سے چار سو اسی روپیہ میرے پاس آئے کہ یہ آپ کی ان دنوں کی تنخواہ ہے۔اس پنساری نے افسروں کو گالی دے کر کہا کہ کیا نور دین تم پر نالش تھوڑا ہی کرنے لگا تھا۔ابھی وہ اپنے غصہ کو فرونہ کرنے پایا تھا کہ ایک رانی صاحبہ نے میرے پاس بہت سا روپیہ بھجوایا اور کہا کہ اس وقت ہمارے پاس اس سے زیادہ روپیہ نہ تھا۔یہ ہمارے جیب خرچ کا روپیہ ہے۔جس قدر اس وقت موجود تھا۔سب کا سب حاضر خدمت ہے۔پھر تو اس کا غضب بہت ہی بڑھ گیا۔مجھ کو ایک شخص کا ایک لاکھ پچانوے ہزار روپیہ دینا تھا۔اس پنساری نے اس طرف اشارہ کیا کہ بھلا یہ تو ہوا۔جن کا آپ کو قریباً دو لاکھ روپیہ دینا ہے وہ آپ کو بدوں اس کے کہ اپنا اطمینان کرلیں کیسے جانے دیں گے؟ اتنے میں انہیں کا آدمی آیا اور بڑے ادب سے ہاتھ باندھ کر کہنے لگا کہ میرے پاس ابھی تار آیا ہے میرے آقا فرماتے ہیں کہ مولوی صاحب کو تو