مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 183
TAI اٹھتے گئے اور مکان خالی ہو نا گیا۔میں بھی آہستہ آہستہ آگے بڑھتا گیا۔آخر ان کا خدمت گار اور منشی ہی رہ گیا اور میں بھی بہت ہی قریب جا پہنچا۔ان کو معلوم تھا کہ میں ان کے مکان پر کبھی نہیں جاتا تھا۔اس واسطے بہت متعجب ہو کر پوچھا کہ آپ کس واسطے آئے ہیں ؟ ان کے نوکر اور منشی بھی اس وقت یہ سمجھ کر کہ اس کو کوئی خاص بات خلوت میں کہنی ہے چلے گئے تھے۔صرف ہم دونوں ہی موجود تھے۔میں نے کہا کہ آپ کا جاہ و جلال ایسا ہے کہ عام علماء تو آپ کو کچھ کہہ نہیں سکتے اور ہر آدمی کے لئے ایک واعظ کی ضرورت ہے میں اس واسطے آیا ہوں کہ آپ سے دریافت کروں کہ آپ کا واعظ کون ہے۔اس پر انہوں نے کہا کہ میں ان پڑھ آدمی ہوں۔باریک باتیں میں سمجھ نہیں سکتا۔میں نے کہا کہ ہر آباد شہر کے قریب کوئی اجرا شہر ضرور ہوتا ہے اور ہر ایک امیر کے مکان کے قریب حوادث زمانہ کے مارے ہوئے امیر کاویران گھر ضرور ہوتا ہے اور وہی ویرانہ اس کا واعظ بن سکتا ہے۔اس پر وہ کچھ متحیر ہو کر کہنے لگا۔کہ مولوی صاحب آگے آئیں چونکہ میں ان کے گھٹنے کے بالکل قریب ہی تھا۔اور آگے کوئی جگہ نہ تھی اس لئے میں نے اپنا سر ہی آگے کر دیا۔انہوں نے کہا کہ دیکھو میرا بیٹھنے کا گریلا تو وہ ہے اور میں ہمیشہ اس کھڑکی ہی میں بیٹھتا ہوں۔آپ دیکھیں اس کھڑکی کے سامنے ایک محراب دار دروازہ ہے اور اس وقت مجھے معلوم ہوا کہ یہ میرے لئے واعظ ہے۔اس گھر کا مالک ہماری ہی قوم کا ایک شخص تھا اور اتنا بڑا آدمی تھا کہ سرخ چھاتا اس کے لئے مہاراج کے سامنے لگایا جاتا تھا اور ہم لوگ تو کالی چھتری بھی سرکار کے سامنے نہیں لگا سکتے۔اب اس گھر کا مالک ایسا ویران ہوا ہے کہ خود اس کی بیوی میرے گھر میں برتن مانجھنے پر ملازم ہے۔میں یہ سنتے ہی فور آکھڑا ہو گیا اور یہ کہ کر کہ آپ کے لئے یہ واعظ بس ہے۔وہاں سے چل دیا۔پھر میں نے یہ مضمون سرکار کے سامنے دو ہرایا تو انہوں نے کہا میرے لئے تو کئی واعظ موجود ہیں۔اول جہاں ہم لوگوں کو راج تلک لگایا جاتا ہے۔اس کے گرد جو بڑا ویرانہ اور کچے مکانات ہیں یہ سب اصل مالکوں کے مکانات ہیں اور وہ لوگ اب تک بھی ہم لوگوں کو سلام کرنے کے مجوز نہیں۔دوسرے میں جہاں کچہری لگاتا ہوں۔اس کے سامنے