مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 178
IZA لوگوں سے بہت تعلق نہیں رکھتا جو گنڈے تعویذ کرتے ہیں۔مجھے انکی تصنیف اور ان کے حالات اور اس تعلق پر جو انہوں نے حضرت شاہ عبدالغنی صاحب سے ظاہر کیا بہت ہی افسوس و رنج ہوا کہ دنیا میں مسلمانوں نے اپنا کیسا حال بنایا ہے۔پھر وہ پندرہ روپیہ ماہوار تک بھی آگئے لیکن میں نے ان کو کچھ ملامت نہ کی۔پونچھ میں مجھ کو ایک فقیر ملا جو بازاروں میں عجیب طرح کی آواز میں کسا کر تا تھا۔میں نے اس کو بلا کر کہا کہ تم یہ کیا حرکت کیا کرتے ہو۔جب میں نے اس کی بہت مدارات کی تو اس نے کہا کہ میں چالیس برس سے ایک فقیر کا معتقد ہوں اور اس نے مجھے ایک عمل بتایا ہے۔میں اسی کی مشق کیا کرتا ہوں۔تین باتوں کا اس نے مجھ سے وعدہ کیا تھا مگر ابھی ان تینوں باتوں میں سے کوئی ظاہر نہیں ہوئی۔لیکن میں عمل برابر کئے جاتا ہوں۔میں نے کہا۔ان باتوں میں سے تم ایک بات تو بتاؤ۔اس نے کہا کہ فقیر نے بتایا تھا کہ تم جب آنکھیں بند کرو گے تو تم کو سب حقیقت کا پتہ لگ جائے گا۔میں نے کہا یہ تو میں تم کو ابھی بتائے دیتا ہوں۔تم اپنی آنکھیں بند کرو۔چنانچہ اس نے آنکھیں بند کرلیں۔میں نے کہا تم کو کچھ نظر آتا ہے ؟ کہا اندھیرا نظر آتا ہے۔میں نے کہا حقیقت تو معلوم ہو گئی کہ اس عمل میں سوائے اندھیر کے اور کچھ نہیں۔اس نے کہا کہ مجھ سے یہ بھی کہا تھا۔مرے ہوئے لوگوں کی برائیوں اور بھلائیوں سے آگاہ ہو سکتے ہو۔اس وقت میں ایک ایسی جگہ تھا کہ سامنے عبد الغفور نام ایک بزرگ کی خانقاہ تھی اور اس کے قریب ہی ایک کنچنی کی قبر تھی۔میں نے اس بزرگ کی خانقاہ کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ کس کی قبر ہے؟ اس نے کہا کہ یہ تو بڑے بزرگ ولی گزرے ہیں۔پھر میں نے دوسری قبر کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ کس کی قبر ہے؟ کہا کہ یہ ایک بد کار کنچنی کی قبر ہے۔میں نے کہا۔بس یہ بات تو تم کو حاصل ہے۔وہ بہت ہی حیران سا ہو گیا اور میرے ہاتھ پاؤں چومنے لگا اور آئندہ اپنی حرکات سے باز رہنے کا وعدہ کر کے ایک بھلا آدمی بن کر میرے پاس سے چلا گیا۔میں نے ایک مرتبہ (جبکہ اس کو میرے موجود ہو نے کا علم نہ تھا) اس کو بازار میں پھر بھی ویسی حرکت کا مرتکب دیکھا۔لیکن میں نے اپنے دل میں سوچا کہ اس کو