مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 179 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 179

149 ر کا چالیس برس کی عادت جس کام کی پڑی ہوئی ہے یک لخت اس کا چھوٹنا مشکل ہی ہے۔ایک شیعہ طبیب بھی وہاں تھے۔جن کو اپنے مذہب میں بہت غلو تھا۔چونکہ وہ میرے ہم پیشہ تھے اور ولی عہد صاحب کے وہ خاص طبیب تھے۔ایک دن انہوں نے مطاعن صحابہ ذکر شروع کیا۔میں نے انکی خدمت میں مختصراً اتنا ہی عرض کیا کہ عمر نام صحابی کی اولاد میں سے میں بھی ہوں۔ہاں ! اب آپ اعتراض کریں۔ان کی شرافت کا یہ عجیب حال ہے کہ جب تک ہم وہاں رہے انہوں نے مذہبی چھیڑ چھاڑ میرے سامنے کبھی نہ کی۔صرف میں نے ولی عہد کی تحریک پر ایک خط لکھا تھا جو مطبوع موجود ہے۔مگر اس کا بھی انہوں نے جواب نہ دیا۔ایک مرتبہ دیوان اننت رام صاحب وزیر اعظم کے استاد مولوی عبد اللہ صاحب نے سرکار میں میری شکایت اس بنا پر کی کہ یہ اس شخص کی اولاد ہے جس نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گڈی پر غاصبانہ حملہ کیا۔چونکہ میرے سامنے کا واقعہ نہیں ہے۔مجھے اس کی تفصیل سے آگاہی نہیں۔صرف سرکار نے مجھ سے کہا کہ پیغمبر صاحب کا جانشین ان کی اولاد کو کیوں نہیں کیا گیا۔میں نے اس کو نہ ہی جھگڑا نہ سمجھا۔عرض کیا کہ آپ کی نرینہ اولادنہ تھی اور بیٹی کی اولاد میں بھی کوئی بالغ لڑکانہ تھا اور آپ کی گدی کوئی دنیوی رسومات کی گری نہ تھی اس لئے دنیوی رسومات کے مطابق کوئی گدی نشین نہیں بنایا گیا۔لیکن جب انہوں نے مجھ سے یہ کہا کہ مولا مرتضیٰ آپ کے بیٹے تھے۔لیکن عمر نے غاصبانہ رنگ میں اس گدی کو حاصل کیا۔تب مجھے معا خیال آیا کہ یہ مولوی عبد اللہ صاحب کی تحریک ہے۔اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں یہی ڈالا کہ حضرت علی داماد تھے اور حضرت عمر آپ کے بلا فصل جانشین نہیں۔تب انہوں نے پوچھا کہ کیا حضرت علی بیٹے نہیں تھے۔وہاں خود رئیس کا ایک داماد بیٹھا تھا۔میں نے کہا ایسا ہی دامادی کا تعلق تھا۔جیسا اس راجہ کو حضور سے ہے تب انہوں نے بہت گرم ہو کر اور جھنجلا کر کہا کہ اب میں مباحثہ کی بنا کو سمجھ گیا ہوں۔دیکھو ہم لوگ داماد اور وزیر ایسے لوگوں کو نہیں بناتے جو سلطنت کا استحقاق رکھتے ہوں۔دیکھو یہ ہمارے سا بڑوں (سابڑوں یا سابنوں ان کی زبان میں داماد کو کہتے ہیں) ہیں۔غدر میں انہوں