مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 173
تعالیٰ نے مجھ کو اس کے جواب کی توفیق دی۔حروف مقطعات کے متعلق اعتراض تک پہنچ کر ایک روز مغرب کی نماز میں دو سجدوں کے درمیان میں نے صرف اتنا ہی خیال کیا کہ مولا! یہ منکر قرآن تو ہے۔گو میرے سامنے نہیں۔یہ مقطعات پر سوال کرتا ہے۔اسی وقت یعنی دو سجدوں کے درمیان قلیل عرصہ میں مجھ کو مقطعات کا وسیع علم دیا گیا۔جس کا ایک شمہ میں نے رسالہ نورالدین میں مقطعات کے جواب میں لکھا ہے اور اس کو لکھ کر میں خود بھی حیران ہو گیا۔جموں میں ٹھٹھیروں کی دوکانوں کے پاس جلا کا کے محلہ میں ایک مندر ہے۔میں نے ایک مرتبہ خواب میں دیکھا کہ اس مندر کے سامنے آئے ، نمک ، تیل وغیرہ یعنی پرچون کی ایک دوکان ہے۔وہاں ایک لکڑی کی چوکی پر حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ سلم بیٹھے ہیں۔میں وہاں سے گزرا تو آپ نے فرمایا کہ تم ہمارے یہاں سے آٹا لے لو۔چنانچہ انہوں نے ایک لکڑی کی ترازو میں آٹا تو لا جو بظاہر ایک آدمی کی خوراک کے قابل تھا۔میں نے اپنے دامن میں اس کو لیا۔جب وہ آٹا میرے دامن میں ڈال چکے تو کفه ترازو کو زور سے ڈنڈی پر مارا تا کہ سب آٹا میرے دامن پر گر جائے۔جب میں آٹا اپنے دامن میں لے چکا تو میں نے سوال کیا کہ آپ نے حضرت ابو ہریرہ کو کوئی ایسی بات بتائی تھی جس سے وہ آپ کی حدیثیں یاد رکھتے تھے ؟ آپ نے فرمایا۔"ہاں" میں نے عرض کیا۔وہ بات مجھے بھی بتا دیں تا کہ میں آپ کی حدیثیں یاد کرلوں۔کہا کہ ہم کان میں بتاتے ہیں۔میں نے کان آگے کیا اور آپ نے اپنا منہ میرے کان سے لگایا کہ اتنے میں خلیفہ نورالدین نے میرے ایک پاؤں کو خوب زور سے دبایا اور کہا کہ نماز کا وقت ہے۔میری سمجھ میں آیا کہ حدیث پر عمل کرنا یہی حدیثوں کے یاد کرنے کا ذریعہ ہے۔اٹھانے والا بھی خواب ہی کا فرشتہ ہوتا ہے اور نور الدین کے لفظ سے یہ تعبیر میری سمجھ میں آئی۔وہاں بعض اوقات مجھے خاص خدمت گاروں میں بیٹھنے کا موقع ملتا تھا۔ایک دفعہ میں نے ان سے کہا آؤ ہم تمہیں قرآن سنا ئیں۔وہ سب ہندو تھے۔میں نے دو ایک روز انہیں