مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 172
اگر مادر شاه بانو مرا کیم ر زر تا بزانو اگر شاه بڑے شاه پودے پدر زر نہارے مرا تاج ایک ایسا خطرناک ٹیکا لگایا ہے کہ ہم بادشاہوں کی مجلسوں میں اس کا ذکر آتا ہے۔اس لئے میں مصنف لوگوں سے بہت ڈرتا ہوں۔تمہارا بھی اسی لئے زیادہ خیال کرتا ہوں۔ان رؤسا میں بعض وجود بڑے نیک اور مخلوق الہی کے واسطے بہت مفید ہوتے ہیں اور بعض اس کے خلاف اس قسم کی باتوں کو صرف اس وجہ سے بیان کرنا مناسب سمجھا گیا ہے کہ شاید کسی کو نفع پہنچے۔کشمیر میں ایک مولوی عبد القدوس صاحب رہتے تھے۔وہ بڑے بزرگ آدمی تھے۔اور میرے پیر بھائی بھی تھے۔کیونکہ وہ شاہ جی عبد الغنی صاحب کے مرید تھے اور میں بھی شاہ صاحب کا مرید تھا۔ان کو مجھ سے خاص محبت تھی اور باوجود ضعف پیری کے میرے مکان پر ترمذی کا سبق پڑھنے آتے تھے۔میں نے ایک رؤیا دیکھا کہ انکی گود میں کئی چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔میں نے ایک جھپٹا مارا اور سب بچے اپنی گود میں لے کر وہاں سے چل دیا۔رستہ میں میں نے ان بچوں سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا نام کھیعص ہے۔میں اپنے اس رویا کو بہت ہی تعجب سے دیکھتا تھا۔جب میں حضرت مرزا صاحب کا مرید ہوا تو میں نے ان سے اس خواب کا ذکر کیا۔مرزا صاحب نے فرمایا کہ آپ کو اس کا علم دیا جائے گا اور وہ لڑکے فرشتے تھے۔دھرم پال نے جب ” ترک اسلام "کتاب لکھی تو اس سے بہت پہلے مجھے ایک خواب نظر آیا تھا کہ اللہ تعالٰی مولی مجھ سے فرماتا ہے کہ ”اگر کوئی شخص قرآن شریف کی کوئی آیت تجھ سے پوچھے اور وہ تجھ کو نہ آتی ہو اور پوچھنے والا منکر قرآن ہو تو ہم خود تم کو اس آیت کے متعلق علم دیں گے " جب دھرم پال کی کتاب آئی اور خدا