مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 171
طبیعت بہت خراب ہو گئی ہے۔میں نے دو آدمیوں سے جو پاس تھے پوچھا انہوں نے کہا کہ ہم کو تو کوئی بات معلوم ہوئی نہیں مگر جو عرضیاں سنایا کرتے ہیں انہوں نے کہا تھا۔ہم نے بھی ہاں میں ہاں ملا دی تھی۔تب میں سمجھا کہ یہ ملا جی کے شاگردوں والا معاملہ معلوم ہوتا ہے۔بہر حال وہاں ایک ریچھ ملا۔وہ بھاگا اس کے پیچھے دوڑے۔میں تو چند قدم پر رہ گیا۔مگر ہمارے مریض صاحب جس طرح ہرن دوڑتا ہے اس کے متعاقب پہاڑ پر چڑھ گئے۔جب میں واپس آیا تو ان کے بڑے چہیتے اور معتمد شخص جن کو وہ وزیر کے لفظ سے پکارا کرتے تھے میرے پاس آئے اور کہا کہ آپ یہاں علاج کرنے آئے ہیں یا ہمارے ولی عہد کو حکومت سکھلانے آئے ہیں؟ آپ صرف دوا و غیرہ بتا دیا کریں اور حکومت کرنی نہ سکھائیں ورنہ آپ کو بڑی تکلیف اٹھانی پڑے گی۔یہ لوگ اگر ایسے ہو جا ئیں جیسا آپ چاہتے ہیں تو ہم لوگ روٹی کہاں سے کھائیں۔خیر میں اصلیت کو پہنچ گیا۔خدا تعالیٰ ہمارے ملک کے رئیسوں پر رحم کرے اور ان کو ہدایت کرے۔مہاراج کشمیر مجھ سے بہت ہی بعدارات پیش آتے تھے۔بعض وقت میں خود بھی تعجب کیا کرتا تھا۔ایک دن مجھے سے تنہائی میں کہا کہ جانتے ہو میں تم سے ڈرتا ہوں۔میں نے کہا کہ آپ تو بادشاہ ہیں اور میں ایک غریب آدمی ہوں۔ڈرنا کیا معنی؟ کہا میں تم سے بہت ڈرتا ہوں اور بعض اوقات میں ایسی چشم پوشی کرتا ہوں کہ میری طبعیت کے وہ بالکل خلاف ہوتی ہے۔آج میں تمہیں اس کی وجہ بتا تا ہوں۔وہ وجہ یہ ہے کہ سلطان محمود غزنوی کوئی ذلیل آدمی نہ تھا۔وہ ایک شاہی خاندان کا شہزادہ تھا اور ایسی سلطنت جیسی کہ محمود کی تھی ایک کمینہ انسان کو کبھی میسر نہیں ہو سکتی۔میں محمود کے حسب اور نسب کو خوب جانتا ہوں۔وہ شاہان ایران کی نسل سے تھا۔مگر نیک نامی کا جینا اور بدنامی کا مرنا دونوں کیسے عجیب ہیں کہ ملا فردوسی نے دو شعر کہہ کر کہے