مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 170 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 170

14 نے کہا افسوس آپ کو خبر ہو گئی۔معلوم ایسا ہوتا ہے کہ یہ بات زیادہ کھل گئی ہے۔میرا بھی منشاء تھا کہ یہ نالش کرے تو پھر ہم اس کا سارا قرضہ مع سود کے ادا کر دیں گے۔آپ مطمئن رہیں۔یہ لوگ بہت ناعاقبت اندیش ہوتے ہیں۔یہ کمینہ خدمت گاروں کے ماتحت بڑی مجبوری سے کام کرتے ہیں۔اور قابل رحم گروہ ہے۔تب مجھے یاد آیا کہ جن دنوں میں اس کا علاج کرتا تھا۔میں نے اس سے کہا کہ آپ مقدمات سنا کریں اور انکے فیصلوں میں لگے رہا کریں اس طرح آپ کو ایک اچھا موقع آرام کا مل جائے گا۔میرے کہنے سے وہ صرف عرضیاں سن لیتا تھا۔ایک دفعہ عرضیاں سنانے والے نے عرضی سناتے سناتے اس کے چہرہ کو بہت غور کے ساتھ دیکھا اور عرضی کو بہت مخش گالی کے ساتھ زمین پر پھینک دیا اور لگا اس کی نبض دیکھنے۔چونکہ بار عب آدمی تھا۔اس نے جب سب لوگوں سے جو وہاں بیٹھے تھے۔کہا کہ دیکھو ہمارے سرکار کی طبیعت مضمحل ہوئی جاتی ہے تو سب نے اس کی ہاں میں ہاں ملادی اور ساتھ ہی اس نے یہ نسخہ بتا دیا کہ تم لوگ بڑے شریر ہو۔حضور کے یہاں عرضیاں نہ دیا کرو۔اس سے سرکار کو تکلیف ہوتی ہے۔دیکھو اس وقت کیسی خراب حالت ہو گئی ہے۔پھر کیوڑہ اور بید مشک منگایا اور میرے پاس سوار دوڑایا۔اس سوار نے میرے پاس پہنچ کر بڑی خطر ناک حالت بیان کی اور یہ بھی کہا کہ میں نہیں جانتا کہ آپ کے پہنچنے تک زندہ رہیں یا نہیں۔میرا مکان فاصلہ پر تھا۔میں سریٹ گھوڑا دوڑا کر پہنچا تو وہ مکان سے اتر رہے تھے۔سیڑھیوں پر ہی ملاقات ہوئی۔وہیں میں نے نبض دیکھی۔مجھ سے کہا۔مولوی صاحب! آپ تو دور ہوتے ہیں۔کہیں قریب آجائیں تو اچھا ہے۔اب بھی یہ سب لوگ کہتے ہیں کہ میری بہت ہی خراب حالت ہو گئی تھی۔مگر میں نے کیوڑہ اور بید مشک پیا تو اب یہ سب کہتے ہیں کہ ذرا طبیعت ٹھیک ہو گئی۔میں نے کہا کہ اب آپ کا کیا ارادہ ہے؟ کہا کہ اس وقت تو میں شکار کے لئے جاتا ہوں۔میں نے کہا میں بھی چلتا ہوں۔چنانچہ ہم شکار کے لئے روانہ ہو گئے۔خوب فاصلہ پر شکار تھا۔وہاں پہنچ کر ایک موقع پر میں نے دریافت کیا کہ آپ کو خود بھی کچھ معلوم ہوا تھا کہ طبیعت خراب ہے۔کہا مجھ کو تو معلوم نہیں ہوا مگر لوگ کہتے تھے کہ تمہاری