مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 169
149 اس کی محنت ٹھکانے لگی۔میں نے دریافت کیا کہ آپ کیوں ہنستے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مدت سے یہ اس طبیب کو اس طرف سے اس لئے لے جایا کرتا تھا کہ آپ کو دکھلائے کہ ہم نے اور طبیب رکھ لیا ہے۔تھوڑے ہی دنوں کے بعد مہاراج کشمیر لاہور کو تشریف لے گئے۔میں بھی ہمراہ تھا اور قدرت الہی سے وہ دوسرا طبیب جو وہ بھی مہاراج کشمیر کا ملازم تھا۔لاہور میں ساتھ نہ آسکا۔راجہ پونچھ بھی جو بدستور بیمار تھے ہمراہ تھے۔کیمپ میں چونکہ میں ایک ہی طبیب تھا۔اس لئے مجھے عین دوپہر کے وقت راجہ پونچھ نے بلوایا۔اس وقت وہ تنہائی میں تھے اور طبیعت بہت مضمحل تھی۔مجھ سے فرمایا کہ سرکار نے (ہم نے) اس سال کا مقرری روپیہ آپ کو نہیں دیا۔اس لئے ہم دو سال کا روپیہ آپ کو بھیج دیں گے اور آپ کوئی دوائی بتا ئیں۔میں نے کہا کہ آپ نے دوپہر کے وقت شائد اس لئے بلایا ہے کہ آپ کا وہ خدمت گار جس کے بلانے سے میں اس کے پاس نہیں گیا تھا اور اس نے کہا تھا کہ ہم اپنے راجہ کے پاس نہ آنے دیں گے۔یہ دو پہر کا وقت اس کی حاضری کا وقت نہیں ہے۔چونکہ آپ اس کے رعب میں آئے ہوئے ہیں۔لہذا خطرہ ہے کہ اگر میں آپ کا علاج شروع کروں اور اس کو پتہ لگ جائے تو آپ کو کوئی ضرر پہنچے اور چوری کا علاج مجھے پسند بھی نہیں ہے۔تب انہوں نے کہا کہ ہم تو ان لوگوں سے ڈرتے ہی رہتے ہیں کیونکہ یہ کمینے زہر بھی دے دیتے ہیں۔خیر لاہور سے ہم بہت جلد واپس آگئے۔اور وہاں میں نے سنا کہ راجہ صاحب دن بدن مضمحل ہوتے جاتے ہیں۔آخر ایک دن ان کا انتقال ہو گیا۔لیکن ابھی اس خدمت گار کاگونہ عروج مصلحنا باقی تھا اور میرا تعلق ان دنوں ایک ایسے شہزادے سے تھا جس کے ساتھ ولی عہد پونچھ کو کسی قدر تکدر تھا۔میرے ایک دوست نے مجھ سے ذکر کیا کہ آپ پر ایک مقدمہ ہونے والا ہے اور اس کا باعث اس شہزادہ کا تعلق ہے۔ولی عہد پو نچھ کا منشاء ہے کہ آپ پر یہ مقدمہ بنایا جائے کہ ان کا والد آپ کے علاج کی کسی غلطی سے فوت ہوا ہے اور اس علاج میں ایک زہر بھی ہے۔مجھے بہت ہی ہنسی آئی کہ اہل دنیا کے تعلق کیا ! اور ان کی خدمتیں کیا! اور ان کے معاہدات کیا؟ میں نے کسی موقع پر اس شہزادہ سے ذکر کیا تو اس