مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 168
اعتراضوں کو پیش نظر رکھ کر بائیبل پر نشان کرتا۔پھر اس کے بعد قرآن شریف پڑھتا اور نشان کرتا رہا۔اس کے بعد کتاب لکھنی شروع کی اور چار جلد کی ایک کتاب (فصل الخطاب لکھی۔ادھر کتاب تیار ہوئی ادھر راجہ کالڑ کا اچھا ہوا۔اب روپیہ کی فکر تھی کہ کتاب چھپے۔راجہ پونچھ نے کئی ہزار روپیہ دیا۔جب جموں آیا تو راجہ صاحب جموں نے پوچھا۔کیا دیا ؟ میں نے وہ تمام روپیہ آگے رکھ دیا۔وہ بہت ناراض ہوئے کہ بہت تھوڑا رو پیدہ دیا۔چنانچہ اسی وقت حکم دیا کہ ان کو سال بھر کی تنخواہ اور انعام ہماری سرکار سے ملے۔میں نے وہ روپیہ اور دو جلد میں دلی بھیج دیں وہاں سے چھپ کر آئیں تو حافظ صاحب اور مثل ان کے دوسرے لوگوں کو بھیج دیں۔انہوں نے جواب میں لکھا کہ ہم بچے دل سے اب مسلمان ہو گئے۔باقی کی ضرورت نہیں۔چونکہ پونچھ کے راجہ سے مجھے پہلے ہی بڑا تعلق تھا اور اب اس کے لڑکے کے علاج سے جس میں مجھ کو بڑی کامیابی ہوئی۔راجہ اور اس کے ولی عہد سے بہت تعلق بڑھ گیا تھا ایک دفعہ راجہ پونچھ جموں میں تشریف لائے اور علیل ہو گئے۔مجھے بلا بھیجا۔میں نے دیکھ کر کوئی علاج کا انتظام کر دیا۔جب میں ان کے مکان سے باہر نکلا۔رستہ میں ان کے سپاہیوں کے مکانات تھے۔ان میں سے ایک شخص نے مجھ سے آکر کہا کہ فلاں خدمت گار آپ کو بلا تا ہے۔میں نے کہا کہ اس خدمت گار کا گھر ایسے موقع پر ہے کہ جب وہ گھر جائے گا تو میرے مکان کے پاس سے ہی گزرے گا۔وہ وہاں آجائے ہم دوائی دے دیں گے۔لیکن اس خدمت گار نے جیسا کہ بعد میں معلوم ہوا کسی آدمی سے کہا کہ نو ر الدین تو بہت متکبر ہو گیا ہے۔اب ہم اس کو اپنے راجہ کے پاس نہیں آنے دیں گے۔میری عادت تھی کہ میں کسی امیر کے گھر بدوں اس کے بلائے نہ جاتا تھا۔دوسرے دن راجہ صاحب کا کوئی آدمی نہ آیا اور میں بھی اپنی عادت کے موافق نہ گیا۔کئی مہینے اسی طرح گزر گئے۔ایک دن میں اپنے مکان کے دروازہ پر کھڑا تھا کہ وہ خدمت گار کسی اور طبیب کو ہمراہ لئے جا رہا تھا۔ہمارے پڑوس میں چند معزز میاں صاحبان رہتے تھے۔وہ بہت ہی ہے اور میری طرف متوجہ ہو کر کہا کہ آج