مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 167 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 167

196 صاحب سے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ لمبی بحث نہ کریں ، اپنے مذہب کا خلاصہ ہمارے مذہب کا خلاصہ اور صرف ایک اعتراض بطور خلاصہ پیش کریں۔مگر پادری صاحب کچھ ایسے مرعوب ہوئے کہ میری بات کو ٹال کر ہمارے لئے چاء بسکٹ کا اہتمام کرنے لگے۔میں نے کہا کہ میں اس شہر میں چار برس ہیڈ ماسٹر رہ چکا ہوں اور یہاں میری کافی واقفیت ہے ہم کو چاء وغیرہ کی ضرورت نہیں آپ ہم سے گفتگو کریں۔میں نے حافظ صاحب سے بھی کہا کہ تم اس کو اکساؤ۔چنانچہ حافظ صاحب اس کو علیحدہ لے گئے اور بہت دیر تک باتیں کر کے واپس آئے اور کہا کہ میں نے بہت زور لگایا مگر یہ تو آگے چلتا ہی نہیں۔یہ کہتا ہے کہ میں ان سے زبانی گفتگو نہ کروں گا۔ہاں بعد میں اعتراضات لکھ کر بھیجوا دوں گا۔میں نے حافظ صاحب سے کہا کہ جب تک ان کے اعتراضات ہمارے پاس پہنچیں اور ہماری طرف سے جو اب نہ ہولے اس وقت تک آپ بپتسمہ نہ لیں۔حافظ صاحب نے کہا ہاں یہ تو ضرور ہو گا۔میں نے پادری صاحب سے بھی کہہ دیا کہ یہ ایسا کہتے ہیں۔انہوں نے کہا ہاں یہ مناسب ہے۔پھر میں نے حافظ صاحب سے کہا کہ بتاؤ اور کون ہے جو مثل تمہارے ہو۔حافظ صاحب نے کہا کہ ایک اسٹیشن ماسٹر ہے چنانچہ ہم اسٹیشن پر آئے۔اسٹیشن ماسٹر صاحب نے تو بڑی دلیری سے کہا مذہب عیسائی کا مقابلہ تو کسی مذہب سے ہو ہی نہیں سکتا۔میں نے حافظ صاحب سے کہا کہ یہ تو پھنس گئے۔جب اسٹیشن ماسٹر نے حافظ صاحب سے سنا کہ پادری صاحب خاموش ہو گئے تو وہ حیران ہو گیا۔آخر اس پادری نے ایک بڑا طومار اعتراضوں کا لکھ کر بھیجا۔میں نے حافظ صاحب سے کہا کہ بتاؤ یہ کوئی ایک دن کا کام ہے ؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔میں نے کہا تم ہی مدت مقرر کرد - حافظ صاحب نے کہا کہ ایک برس تک کتاب چھپ کر ہمارے پاس پہنچ جائے۔میں جموں آیا۔اس زمانہ میں زلزلے بہت آئے تھے۔راجہ پونچھ کا بیٹا زلزلوں کے سبب پاگل ہو گیا تھا۔اس نے جموں کے راجہ کو لکھا کہ ہم کو ایک اعلیٰ درجہ کے طبیب کی ضرورت ہے۔چنانچہ میں وہاں گیا۔مجھ کو شہر سے باہر ایک تنا مکان دیا گیا۔بس ایک مریض کا دیکھنا اور تمام دن تنہائی۔میں وہاں بائیبل اور قرآن شریف پڑھنے لگا۔ان تمام