مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 166 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 166

۱۶۶ میں نے ان کا بہت شکریہ ادا کیا جس کا انہوں نے ان لفظوں میں مجھ کو جواب دیا کہ ریاست میں اس طرح صفائی سے کہنے والا انسان بھی ضروری ہے اور اس لئے میں آپ کی بڑی قدر کرتا ہوں۔اب میں کسی کو نہ روکوں گا اور آپ کے لئے تو کوئی وقت مقرر نہیں۔آپ جس۔وقت چاہیں بلا تکلف تشریف لائیں۔میں جب حضرت مرزا صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ سے پوچھا کہ آپ کی مریدی میں کیا مجاہدہ کرنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کی محبت میں ترقی ہو۔آپ نے فرمایا کہ میں یہ مجاہدہ بتا تا ہوں کہ آپ عیسائیوں کے مقابلہ میں ایک کتاب لکھیں۔مجھے کو عیسائی مذہب سے واقفیت نہ تھی۔ان کے اعتراضوں کی بھی خبر نہ تھی کہ کیا کیا اعتراض ہوتے ہیں۔پھر یہ کہ میں اپنے آپ کو کبھی فرصت میں نہیں رکھتا اور اس کام کے لئے فراغت و فرصت کی بھی ضرورت تھی۔جموں میں تو مجھ کو فرصت بہت ہی کم تھی۔جب میں قادیان سے یہ حکم لے کر اپنے وطن میں پہنچا تو وہاں میرا ایک ہم مکتب حافظ قرآن مسجد کا پیش امام تھا۔وہ میرے سامنے تقدیر کا مسئلہ لے بیٹھا اور اس نے اس مسئلہ کے پیش کرنے میں بڑی شوخی سے گفتگو کی۔میں حیران اس کے منہ کو دیکھتا رہا کہ فرفر بو لتا تھا۔حالانکہ مسجد کے ملا میں اس قدر شوخی نہیں ہوتی۔جب لوگ چلے گئے تو میں نے اس کو اپنے پاس بلا کر کہا کہ حافظ صاحب مجھ کو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ عیسائی ہو گئے ہیں۔اس نے کہا کہ عیسائی ہو گئے ہیں تو حرج ہی کیا ہے؟ میں نے کہا اپنے گورو سے ذرا مجھ کو بھی ملاؤ۔چنانچہ وہ مجھ کو پنڈ دادنخان لے گیا۔دریا سے اترے تو ایک گاؤں کے نمبردار نے کہا تمہاری دعوت ہے۔میں نے کہا شہر سے واپس آکر دعوت کھائیں گے۔چنانچہ میں اور حافظ صاحب دونوں ایک انگریز کی کوٹھی میں جا دھمکے۔حافظ صاحب تو پہلے سے واقف ہی تھے۔پادری صاحب ملاقات کے کمرہ میں تشریف لائے۔میں نے کہا کہ پادری صاحب میرے آنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ ہمارے ہم مکتب آپ کے مرید ہو گئے ہیں آپ ہم کو بھی کچھ سنائیں۔مطلب میرا یہ تھا کہ انکے مذہب کا پتہ لگے۔اگر وہ اس وقت اعتراض پیش کرتا تو کوئی ایک دو ہی اعتراض کرتا کیونکہ میں نے پادری