مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 156
۱۵۶ سے ہے کہ انکے گھر میں حمل ہو گیا اور ایک لڑکی پیدا ہوئی۔وہ تو بہت ہی خوش ہو گئے۔چونکہ بہت بڑے امیر تھے۔میں نے کہا کہ آپ اس لڑکی کو کسی اور کا دودھ پلوا ئیں۔لیکن اس کو انہوں نے مانا نہیں۔بہر حال دوسرے سال پھر حمل ہوا اور لڑکا پیدا ہوا جواب اللہ تعالیٰ کے فضل سے محمد حیات نام اکسٹرا اسٹنٹ ہے اور مجھے ہمیشہ اپنا چاہی لکھا کرتا ہے۔خدا تعالیٰ اس کی حیات میں بہت برکت دے۔وہ میرے نہایت پیارے دوست کی یاد گار ہے۔میری طبی آمدنی اس وقت اتنی قلیل تھی کہ ہم میاں بیوی دو آدمیوں کے لئے بھی گونہ مشکلات پڑ جاتے تھے۔جب انکے لڑکا پیدا ہوا تو انہوں نے بعض آدمیوں کو مبارک باد کے لئے میرے پاس روانہ کیا۔میری حالت تو خود بہت کمزور تھی۔مگر مجھے کچھ نہ کچھ دینا ہی پڑا۔پھر ایک دفعہ میں چھاؤنی شاہ پور میں گیا۔وہاں سے مجھے کچھ روپے مل گئے تھے۔میں اس خیال سے کہ انہوں نے مجھے کچھ مالی امداد نہیں دی۔انکے گاؤں میں چلا گیا۔وہ اپنے گاؤں کے بہت سے وہ لڑکے جو ان کے لڑکے کے قریب پیدا ہوئے تھے جمع کر کے لائے اور سب کو کہا کہ تم سلام کرو۔مجھے کو ان لڑکوں کی تعداد اور اپنی جیب کے روپیوں میں کچھ مناسبت معلوم نہ ہوئی تو میں نے جو کچھ میری جیب میں تھا۔سب ان کے لڑکے کو دے دیا۔اس کو انہوں نے فال نیک سمجھا گویا یہ لڑکا امیر ہو گا۔اور باقی لڑکے اس کے دست نگر رہیں گے۔اس کے ہاتھ سے ان بچوں کو تقسیم کرا دیا۔جب میں گھر میں پہنچا تو ایک میرے مکرم دوست اللهم اغفره و ارحمه جو میری آسائش کو بہت ضروری سمجھتے تھے ، حکیم فضل الدین ان کا نام تھا اور قسم قسم کی امدادوں میں وہ لگے رہتے تھے۔انہوں نے مجھ سے کہا کہ یہ تو یوں کچھ دیتے نہیں۔آپ اس لڑکے کے لئے ایک لباس بنوا کر بھیج دیں۔وہ لباس بمبئی میں تیار کرایا گیا۔جیساوہ قیمتی تھا ویسا ہی وہ عمر کے لحاظ سے جو ان آدمی کے قابل تھا۔وہ لباس میں نے کسی آدمی کی معرفت ان کو بھیج دیا۔اس لباس کی وسعت مقدار کو دیکھ کر اس رئیس نے یہ تفاول لیا کہ یہ لڑکا جو ان ہو گا اور وہ لباس جوانی کے وقت کے لئے محفوظ رکھا۔جب وہ آدمی واپس آیا تو میں نے حکیم فضل الدین صاحب سے کہا کہ مال کا نام قرآن کریم نے فضل رکھا ہے۔