مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 157 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 157

۱۵۷ یہ فضل سے حاصل ہوتا ہے۔مجھ کو تو یہ فائدہ حاصل ہوا ہے کہ میں مخلوق پر قطعاً اب کبھی بھروسہ نہ کروں گا اور خدا تعالیٰ اب مجھ کو اپنے خاص کارخانہ سے رزق بھیجے گا اور میں آئندہ ارادہ بھی نہ کروں گا کہ کسی کو قیمتا دوائی دوں۔یہ ایک امارت اور دولت مندی کی راہ تھی جو مجھ کو اس دن عطا ہوئی۔الحمد لله رب العلمين۔مجھے ان دنوں تاریخ ابن خلدون کا شوق تھا۔کوئی تاجر لایا۔ستر روپیہ اس نے قیمت کہی۔میں نے کہا کہ باقساط تو روپیہ میں دے دوں گا ایک دم میرے پاس نہیں ہے لیکن اس تاجر نے قسطوں کو پسند نہ کیا۔جب میں ظہر کی نماز کے لئے مطب میں آیا تو وہ کتاب وہاں رکھی دیکھی۔ہر چند میں نے لوگوں سے دریافت کیا کہ یہ کون رکھ گیا ہے لیکن کسی نے پتہ نہ بتایا۔نہ تاجر کا کچھ پتہ چلا۔کبھی کبھی میں مطب میں ذکر کر دیا کرتا تھا۔آخر ایک دن ایک بیمار نے کہا کہ یہ کتاب ایک سکھ رکھ گیا تھا۔جس کو میں صورت سے تو پہچانتا ہوں لیکن نام نہیں جانتا۔وہ یہاں تحصیل میں بہت آتا جاتا رہتا ہے۔کچھ دنوں کے بعد وہ اس سکھ کو لے آیا۔میں نے اس سے پوچھا کہ یہ کتاب آپ نے کس طرح رکھی۔اس نے کہا کہ ”آپ کی مجلس میں ذکر ہوا تھا کہ آپ کے پاس روپیہ نہیں لہذا میں نے ستر روپیہ دے کر کتاب خرید لی اور یہاں رکھ دی تھی۔اور یہ ستر روپیہ میں نے فلاں امیر سے وصول کر لیا تھا کیونکہ ان کا ہم کو حکم ہے کہ نور الدین کو جب کوئی ضرورت ہوا کرے بلا ہمارے پوچھے روپیہ خرچ کر دیا کرو۔چنانچہ مجھ کو یہ موقع مل گیا اور میں نے انکے حکم کے موافق روپیہ خرچ کیا۔میرے پاس بھی چونکہ ستر روپیہ آگئے تھے۔میں نے ستر روپے اس امیر کے پاس واپس کر دئیے۔میرا آدمی دو پہر کے وقت وہاں پہنچا اور روپے پیش کئے جن کو انہوں نے بڑے غضب اور رنج سے لیا اور اس آدمی کو روٹی بھی نہ کھلائی۔پھر میرے بڑے بھائی کو بلایا اور کہا کہ ہم نے نور دین کے لئے جب سوچا تو کوئی حد نذرانہ کی ہم کو نظر نہ آئی اس لئے ہم نے یہ تجویز کیا تھا کہ ہم سارے ہی اس کے ہیں اور ہم نے اپنے نوکروں کو حکم دے دیا تھا کہ جب ان کو کوئی ضرورت پیش آئے تو بلا دریغ روپیہ خرچ کر دیا کریں۔مگر انہوں نے ستر روپیہ واپس بھیجا۔