مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 146 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 146

میدان بنانا پڑے تو کیا شہر کے لوگ انکار کر سکتے ہیں ؟ کہا۔ہاں ! نہیں کر سکتے۔میں نے کہا بس اسی طرح ہر جگہ سرکاری ہی کہلاتی ہے۔تب انہوں نے کہا کہ آپ کا مکان سرکاری زمین کے کتنے حصہ میں بن سکتا ہے۔میں نے کہا ایک طرف تو سڑک ہے۔دوسری طرف بھی شارع عام ہے اس کے درمیان جتنی زمین ہے اس میں مکان بن سکتا ہے۔فرمایا کہ ابھی میخیں گاڑ دو۔چنانچہ میخیں گاڑ دی گئیں۔پھر تحصیل دار اور میونسپلٹی کے لوگوں سے پوچھا کہ آپ لوگوں کو کوئی اعتراض ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ان کا مکان تو نافع عام ہوتا ہے۔ہم کو کوئی اعتراض نہیں۔مجھ سے فرمایا کہ اچھا آپ اپنا مکان بنا ئیں۔جب وہ چلے گئے تو تحصیل دار نے میرے پاس آکر کہا کہ یہ تو سکھا شاہی فیصلہ ہوا ہے کیونکہ ڈپٹی کمشنر صاحب کو خود بھی اختیار اس طرح سرکاری زمین دینے کا نہیں ہے۔میں نے ان سے کہا کہ آپ خاموش رہیں۔بہت دور جا کر ڈپٹی کمشنر پھر واپس آئے اور مجھ سے فرمایا کہ سڑک کے ساتھ ساتھ بدرد ہے آپ کو اس کے سبب سے بہت تکلیف پہنچے گی۔میں نے کہا۔میں نے سنا ہے انگریز بہت عقل مند ہوتے ہیں۔آپ ہی کوئی تدبیر بتا ئیں۔کہا میں نے تدبیر یہ سوچی ہے کہ سرکار کی طرف سے آپ کے مکان کا پشتہ کمیٹی بنادے پھر کمیٹی والوں سے مخاطب ہو کر پوچھا کہ آپ کو کوئی اعتراض ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں۔وہ تحصیل دار مجھ سے کہنے لگا کہ یہ ایک ہزار روپیہ اور ہم پر جرمانہ ہوا۔میں نے ان سے کہا کہ تم ان باتوں کو کیا سمجھ سکتے ہو۔اس مکان کے بننے میں جب بارہ سو روپیہ خرچ ہو گیا تو مجھ کو خیال آیا کہ کہیں وہ ہندو اپنا روپیہ نہ مانگ بیٹھے۔میں اسی خیال میں تھا کہ میرے ایک دوست ملک فتح خاں صاحب گھوڑے پر سوار میرے پاس آئے اور فرمایا کہ میں راولپنڈی جاتا ہوں کیونکہ لارڈلٹن نے دتی میں دربار کیا ہے۔بڑے بڑے رئیس تو دتی بلائے گئے ہیں اور چھوٹے رئیس راولپنڈی جمع ہوں گے اور انہی تاریخوں میں راولپنڈی میں دربار ہو گا۔ہم راولپنڈی بلائے گئے ہیں۔میں نے انکے کان میں چپکے سے کہا کہ مجھ کو بھی دربار میں جانا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ گھوڑا ہے ، آپ اس پر سوار ہو جائیں۔اس وقت جس قدر میرے بیمار تھے وہ وہیں بیٹھے رہے اور