مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 147
۱۴۷ میں نے گھر میں بھی اطلاع نہیں کی۔اسی وقت سوار ہو کر چل دیا۔فتح خاں اور ہم دونوں جب جہلم پہنچے تو وہاں ریل تھی۔ملک فتح خاں مرحوم تو راولپنڈی چلے گئے۔میں نے کہا۔میں تو دتی جاتا ہوں۔میرے کپڑے بہت میلے ہو گئے تھے اس لئے میں نے اپنے کپڑے اتار کر ملک حاکم خاں تحصیل دار جہلم کا ایک پاجامہ پگڑی اور کوٹ پہن لیا ، جس کے نیچے کر یہ نہ تھا۔میں میر کے لئے نکلا اور ٹہلتا ہوا اسٹیشن جہلم پر پہنچا۔میں نے اسٹیشن پر کسی سے پوچھا کہ لاہور کا تھرڈ کلاس کا کیا کرایہ ہے؟ معلوم ہوا کہ پندرہ آنہ - اس کوٹ کی جیب میں دیکھا تو صرف پندرہ آنہ کے پیسے پڑے تھے۔میں نے ٹکٹ لیا اور لاہور پہنچا۔یہاں بڑی گھمسان تھی کیونکہ لوگ دربار کے سبب دہلی جا رہے تھے۔ٹکٹ ملنا محال تھا اور میری جیب میں تو کوئی پیسہ بھی نہ تھا۔ایک پادری جن سے کسی مرض کے متعلق طبی مشورہ دینے کے سبب میری پہلے سے جان پہچان تھی۔اسٹیشن پر مل گئے۔ان کا نام گولک ناتھ تھا۔انہوں نے کہا۔آپ کہاں سجاتے ہیں؟ ٹکٹ تو بڑی مشکل سے ملے گا۔میں نے کہا مجھ کو دہلی جانا ہے۔گولک ناتھ نے کہا میں جاتا ہوں اور ٹکٹ کا انتظام کرتا ہوں۔چنانچہ وہ گئے اور بہت ہی جلد ایک ٹکٹ دہلی کا لائے۔میں نے ٹکٹ ان سے لیا اور جیب میں ہاتھ ڈالا تو پادری صاحب کہنے لگے ” آپ میری ہتک نہ کریں۔معاف کریں۔میں اس کے دام نہ لوں گا اور میں بھی تو دہلی ہی جاتا ہوں۔رستہ میں دیکھا جائے گا میں رستہ میں ان کو تلاش کرتا رہا وہ نظر نہ آئے اور دہلی کے اسٹیشن پر بھی باوجود تلاش مجھ کو نہ ملے۔اسٹیشن پر اترا تو عصر کا وقت تھا۔میں آہستہ آہستہ اس سڑک پر چلا جس پر رؤسا کے خیمے نصب تھے۔میں غالبا پانچ میل نکل گیا۔اب چونکہ آفتاب غروب ہونے کو تھا۔میں نے واپسی کا ارادہ کیا۔اتنے میں ایک سپاہی جو حضرت منشی جمال الدین صاحب رحمہ اللہ علیہ کا ملازم تھا دوڑتا ہوا میرے پاس آیا اور کہا کہ آپ ا کو منشی صاحب بلاتے ہیں۔انہوں نے آپ کو دیکھ کر مجھے بلانے بھیجا ہے۔میں نے کہا اب تو وقت تنگ ہے۔میں کل انشاء اللہ تعالیٰ ان کی خدمت میں حاضر ہوں گا۔اس نے کونکہ وہ بہت اصرار سے آپ کو بلاتے ہیں۔میں نے پھر بھی کہا کہ کل آؤں گا۔اس نے کہا پاس ہی تو