مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 142 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 142

شریف الطبع اور نیک طبیعت خیال کرتا تھا۔لیکن ان کے اس لفظ پر مجھ کو اس وقت تک تعجب ہے کہ انہوں نے میرے سامنے یہ کہا کہ اس ملک میں کوئی مذہبی مباحثہ کبھی نہیں ہوتا تھا۔اس گاؤں کے مولوی نے تفرقہ ڈال دیا ہے اور جو مفرق الجماعت ہوتے ہیں وہ ملعون ہوتے ہیں۔عليه لعنت الله والملائكة والناس اجمعین۔اس لفظ سے میں کانپ گیا اور معلوم ہوا کہ شریف الطبع انسان بھی جوش میں آکر حد سے نکل جاتا ہے۔ایک مسجد میں یہ عجیب بات دیکھی کہ ایک بزرگ میری بہت مذمت کر رہے تھے اور میں بھی وہاں جا کر بیٹھ گیا۔انہوں نے مجھ کو دیکھا نہ تھا اور بڑے جوش سے اپنے کام میں مصروف تھے۔میں جانتا تھا کہ دنیا میں یہ ہماری بھی کچھ لحاظ داری کرتے ہیں۔میں نے آہستگی سے کسی اور شخص سے ایک بات کی اور خیال کیا کہ یہ بھی میری آواز سن لیں گے۔چنانچہ وہ فور امیری آواز سن کر چونک پڑے اور میری طرف منہ کر کے فرمانے لگے کہ آپ بیٹھے ہیں ؟ اور اس کے بعد ان پر ایک سکتہ کا عالم طاری ہو گیا جس سے مجھ کو افسوس ہوا کہ کس قسم کی یہ مخلوقات ہے۔ایک واقعہ اس کے قریب یہ ہوا کہ ہمارے شہر میں ایک بہت بڑے پیر ولایت تھے۔بہت کچھ سمجھا کر ان سے لوگوں نے یہ اقرار لے لیا کہ اس قدر مدد دیں گے کہ نورالدین کو شہر سے نکال دیں۔جب پیر صاحب آرے بلے کہہ چکے ، مجھ کو بھی یہ خبر پہنچی۔میں دوپہر کے وقت پیر صاحب کے پاس پہنچا اور وہ ایسا وقت تھا کہ اس وقت پیر صاحب اکثر تنہا ہی ہوتے تھے۔میں نے کہا کہ ایک عرض کرنے آیا ہوں جو بہت ہی مختصر ہے۔یہ باغ جو آپ کے گھر کے پاس ہے اس باغ کی نسبت ایک سوال ہے کہ " آپ تو حجرہ شاہ مقیم کے رہنے والے ہیں اور وہ یہاں سے بہت دور ہے۔یہ باغ آپ کو اس شہر میں کس طرح مل گیا ؟ بس میرا اتنا ہی سوال ہے " پیر صاحب نے فرمایا کہ آپ کے دادا نے ہمارے دادا کو دیا تھا۔میں نے کہا کہ بہر حال آپ کو ہمارے خاندان سے کچھ نفع پہنچا ہے۔یہ سن کر انہوں نے فرمایا کہ میں اور آپ کا بڑا بھائی لاہور میں ایک جگہ رہتے تھے اور ہمارے باہم بہت کچھ رسم آمد و رفت تھی۔میں نے