مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 141 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 141

۱۱ اسکی محرک معمولات مظہری نام ایک کتاب ہو گئی جو اس وقت میرے کوٹ اور کرتہ کے درمیان رکھی تھی۔میں نے کھڑے ہی کھڑے مولوی صاحب سے پوچھا کہ اگر معمولات مظہری میں جو آپ کے پیروں کے پیر کے ملفوظات ہیں ، کوئی اس قسم کا فیصلہ نکل آئے جو فرض کرو ان کتابوں کے خلاف ہے تو کیا آپ اپنے پیر کو چھوڑ دیں گے ؟ باعث مباحثہ بھی کھڑاہی تھا۔میں بھی کھڑا تھا اور وہ بزرگ بیٹھے تھے۔انہوں نے فرمایا کہ وہ ہمار ا طریقت کا پیر ہے ، شریعت کا پیر نہیں۔میں نے کہا کیا وہ شرعی امور کے مخالف ہو کر بھی آپ کی طریقت کے پیر رہ سکتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا۔ہاں۔باعث مباحثہ جو ایک بڑا ہو شیار دنیا دار آدمی تھا۔وہ تاڑ گیا اور اس نے آہستہ سے مجھ سے کہا کہ میں تو حقیقت کو پہنچ گیا۔یہ لوگ تو آپ سے کچھ بھی مباحثہ نہیں کر سکتے۔مجھے کو تو کسی کاوش کی ضرورت نہ تھی۔میں وہاں سے گھوڑے پر سوار ہو کر اس ارادہ سے کہ اپنے گھر چلا جاؤں اس گاؤں سے باہر نکلا۔لیکن ایک آدمی نهایت تیزی سے دوڑتا ہوا میرے پاس پہنچا اور اس نے آتے ہی میرے گھوڑے کی باگ پکڑ لی اور کہا کہ یہ ڈھول کی آواز نہیں سنتے؟ میں نے کہا کہ میں تو ڈھول کی آواز پہچانتا نہیں۔اس نے کہا کہ یہ فلاں دنیا دار نے اس خوشی کا ڈھول بجوایا ہے کہ آپ ہار گئے ہیں۔مجھے کو بڑا تعجب ہوا اور میں نے گھوڑے کو سرپٹ دوڑا کر اپنے آپ کو پھر اسی مقام پر پہنچایا۔اب اس دنیا دار کو بھی ہوش آیا۔میں نے اس سے کہا کہ تم نے مجھ سے تو کہا تھا کہ حقیقت معلوم ہو گئی یہ لوگ مباحثہ نہیں کر سکتے اور اب سنا کہ یہ فتح کا ڈھول بجوایا ہے۔یہ سن کر اس نے ڈھول بجانے والے کو بڑی فحش گالی دے کر نیچے اتارا۔میں نے اس دنیا دار کو دھمکی دی کہ اگر اس طرح آدمی فتح یاب ہو سکتا ہے تو تمہارے مخالف تم کو جان سے مار ڈالنے پر تیار ہو سکتے ہیں۔تم نے سوچا سمجھا نہیں اور غور سے کام نہیں لیا۔تحریری اور تقریری مباحثہ کرالو اور ان شرارتوں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھو۔پھر وہاں سے میں ایک بڑے پرامن مکان میں چلا گیا۔تھوڑے سے تحریری مناظرہ کے بعد کتابوں والے مولوی صاحب نے مناظرہ کو روک دیا۔میں ان کو جانتا تھا کہ وہ مناظروں سے دور رہنے والے آدمی تھے۔میں انکو بہت