مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 134
۱۳ ارادہ چھوٹ گیا ہے۔مولوی صاحب کے اس پہلے غضب پر یہ میرا لکھا ہوا کاغذ اور بھی خطرناک کام کر گیا اور اب وہ میرے مقابلہ کے لئے بالکل تیار ہو گئے۔وہ ابھی کچھ منصوبوں ہی میں تھے کہ ایک روز صبح کے وقت ایک سید صاحب اور انکے ساتھ ایک متولی صاحب دونوں میرے پاس آئے۔اور شاہ صاحب نے مجھ سے کہا کہ میرے سسرال میں ایک جماعت ہے جو نمازوں میں رکوع اور قومہ میں رفع یدین کرتے ہیں۔آپ کا فتویٰ ان لوگوں کی نسبت کیا ہے کہ ان سے کیا معاملہ کیا جائے۔کیونکہ وہاں جھگڑے میں آپ کو منصف مقرر کیا گیا ہے۔میں نے اس وقت کمزوری سے کام لیا اور ان سے کہا کہ پہلے پتہ لگایا جائے اور ان رفع یدین کرنے والوں سے پوچھا جائے کہ وہ شیعہ ہیں یا سنی۔اور سنیوں میں وہ شافعی ہیں یا حنبلی۔اگر اس قسم کے لوگ ہوں تو ان کے مذہب میں رفع یدین ثابت ہے۔ہاں اگر وہ حقی مذہب کے مقلد ہیں تو پھر ان کے متعلق انکے مناسب فتوی دیا جا سکتا ہے۔سید نے اس فتویٰ کو بہت پسند کیا اور دونوں واپس چلے گئے۔قدرت ہی کے تماشے ہیں۔جب وہ دنوں صاحب مسجد کی سیڑھیوں سے نیچے اتر گئے۔تو وہ مولوی صاحب جو بخاری پر ناراض اور دعائے شفاعت پر گھبرائے ہوئے تھے پاس سے گزرے اور انہوں نے شاہ صاحب سے پوچھا۔آپ یہاں کس طرح آئے تھے۔شاہ صاحب نے کہا۔میں نے ایک سوال کیا تھا مگر بہت ہی معقول جواب دیا ہے۔شاہ صاحب سے سن کر مولوی صاحب نے ان کو بتاکید فرمایا کہ میں یہاں کھڑا ہوں۔آپ اس سے یہ اور دریافت کر آئیں کہ آپ کے نزدیک رفع یدین کا کیا حکم ہے۔وہ شاہ صاحب جب واپس تشریف لائے اور میں نے ان کو دیکھا تو اپنی کمزوری پر بہت ہی افسوس کیا۔خیر انہوں نے جیسا ان کو مولوی صاحب نے سمجھایا تھا اسی طرح کھڑے کھڑے ہی مجھ سے دریافت کیا۔میں تو پہلے ہی اپنی حالت پر افسوس کر رہا تھا۔میں نے ان سے کہا کہ میرے نزدیک رفع یدین کرنا جائز ہے۔اس پر انہوں نے کہا کہ اگر آپ کا ایسا خیال ہے تو آپ کا اس ملک میں یا کم سے کم اس شہر میں رہنا محال ہو گا۔میں نے انکو جیسا کہ میں تیار ہو ہی چکا تھا، کہا کہ یہ خدا تعالیٰ کے کام ہیں ان میں بندوں کا کوئی دخل نہیں۔پہلے